ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 449

خدا کے ملنے کی راہ فرمایا۔میں بہت سے بزرگوں سے جو بزرگ اور عالم اور صوفی مشہور ہیں ہمیشہ دریافت کرتا رہاہوں کہ خدا کے ملنے کی راہ کون سی ہے۔ایک صاحب نے فرمایا کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی حاصل ہوتا ہے۔پہلے کسی خوبصورت عورت کے عاشق بنو پھر اس عشق سے خدا کا عشق پیدا ہوگا۔کس قدر لوگ اس طریق سے زنا اور بدنظری میں گرفتار ہوئے ہیں۔اور اسی طرح چرس، گانجا، افیون، بھنگ کی عادتیں ایسی بدصحبتوں میں پڑکر لوگوں کے شامل حال ہوگئی ہیں۔بعض لوگ اس گند میں اور بھی آگے بڑھے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خوبصورت لڑکوں کا عشق کماؤ۔ایک اور سے ہم نے پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ راگ سے بڑھ کر کوئی شے خدا سے ملانے والی نہیں۔میں نے کہا اچھا ہمیں بھی وہ راگ سنوائیے جس سے انسان خدا سے مل جاتا ہے۔تو فرمایا کہ پانچ سال سے کوئی راگی نظر نہیں آتا۔ایک صاحب نے کہا کہ حزب البحر کے وظیفہ سے خدا ملتا ہے بشرطیکہ چلتے ہوئے دریا میں شیخ سے سننا چاہئے اور خود بھی پڑھیں۔میں نے یہ بھی تجربہ کیا۔دریا میں حزب البحر کو سنا۔خدا تعالیٰ نے مجھے جس طرح اس دریا میںغرق ہونے سے بچایا اسی طرح غلط راہ پر چلنے سے بھی بچایا اور اپنے ملنے کی حقیقی راہ دکھائی۔ایک صاحب نے فرمایا۔قصیدہ غوثیہ کے پڑھنے سے خدا ملتا ہے۔ایک اور کہنے لگے کہ درود مستغاث پڑھو۔زمانہ طالب علمی میں ایک صاحب مجھے ملے توانہوںنے فرمایا۔گناہوں سے بچنے کا علاج موت کا یاد رکھنا ہے۔یہ بات البتہ معقول ہے۔حدیث میں بھی آیا ہے کہ موت لذتوں کو دور کرتی ہے اور انسان کو خدا کی طرف متوجہ کرنا ہے۔بعض لوگ اپنے مریدوں سے غیر شرع کام کراتے ہیں۔ایک پیر کے پاس ایک مولوی مرید