ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 447
ہے۔بغیر دقت اور تکلیف کے دنیا میں کچھ میسر نہیں آتا۔بالمقابل ہندو قوم محنت کرتی ہے ہر ایک مشکل میں سے جس طرح بن پڑتا ہے گزر جاتی ہے۔اس واسطے مسلمانوں کے بالمقابل کامیاب ہوتی ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ سستی کو چھوڑ دیں۔ہر بات کو مشکل اور تکلیف دہ کہہ کر گھر میں نہ بیٹھ رہیں بلکہ کام کریں۔مباحثہ تحریری ہونا چاہئے میرٹھ میں کسی مولوی صاحب نے احمدی برادران سے مباحثہ کرنا چاہا تھا۔برادران میرٹھ نے یہاں خط لکھا اور یہاں سے شرائط مباحثہ لکھ کر روانہ کردی گئیں۔جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ مباحثہ تحریری ہوگا۔اس شرط کو مولوی صاحب غیراحمدی نے منظور نہ کیا اور جواب میں لکھا کہ تم احمدی لوگ خائف ہو اس واسطے ایسی شرائط لگاتے ہو۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مومن بہادر ہوتا ہے وہ کسی کی بات سے خائف نہیں ہوتا۔یہ عجیب بات ہے کہ وہ ہمیں خائف بتلاتا ہے۔کیا وہ شخص خائف ہے جو اپنے ہاتھ کی تحریر دشمن کے قبضہ میں دینا چاہتا ہے یا وہ شخص خائف ہے جو اپنی تحریر فریق مخالف کو دینا پسند نہیں کرتا۔ہم تو کہتے ہیں کہ ہماری تحریر لے لو اور اپنی بھی تحریر دو۔فرمایا۔زبانی بحث میں آوازیں ہوا میں اڑ جاتی ہیں۔ہر فریق پیچھے سے کہہ سکتا ہے کہ میں نے یہ بات کہی تھی یا نہیں کہی تھی۔ہوا کے پرندوں کو کون پکڑے جو اس امر کا ثبوت ہوسکتے ہیں کہ آیا فی الواقعہ اس نے کیا کہا تھا۔تحریر میں جو بات آجاتی ہے وہ مضبوط ہوجاتی ہے اس سے کوئی انکار نہیںکرسکتا۔اس واسطے ہم ہمیشہ تحریری مباحثات کو پسند کرتے ہیں۔علاوہ ازیں تحریر کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے علاوہ جو حاضر ہوں دوسرے لوگ بھی بعد میں ان تحریروں کو پڑھ کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی تعلیم کو کتاب کے رنگ میںپیش کیا ہے اور فرمایا ہے (البقرۃ:۳)۔