ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 440

کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض واعظین کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم و فضل کے اظہار کے لئے زمانہ قدیم کے حکماء مثلاًارسطو و افلاطون وغیرہ کے قصے لے بیٹھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل غیرضروری مسائل بیان کیا کرتے ہیں۔مثلاً لا تبل المسجد قائما وغیرہ۔اس قسم کے واعظ وعظ ونصیحت کی ضرورت اور علّتِ غائی سے بالکل نا واقف ہوتے ہیں۔واعظین کا اصل فرض منصبی واعظ کا اصل فرض منصبی یہ ہے کہ وہ اوّل مشاہدہ کرے کہ سامعین میں کس بات کی کمی ہے۔کون کون سے امراض روحانی انہیں لاحق ہیں اور کون کون سے پہلو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ایسے ہیں جن کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے۔اور پھر ان کے مطابق وعظ کرکے لوگوں کو ان کی غفلت اور غلطی پر آگاہ کرے۔جو واعظ موقع اور محل کے لحاظ سے وعظ نہیں کرتا اس میں شک نہیں کہ وہ عند اللہ قابل مواخذہ ہے۔سامعین کے جاہلانہ خیالات جس طرح واعظین میں غلطی ہوتی ہے اسی طرح سامعین میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں کہ وہ سچے اور حقیقی واعظوں پر اس لئے ناراض ہوتے ہیں کہ وہ ان کے حسنات کے ذکر کو ترک کرکے سیئات کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟ اور ایک ہی عیب پر کیوں زور دئیے جاتے ہیں۔سامعین کے اس قسم کے خیالات جہالت پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ انہیں سوچنا چاہیے کہ اگر ایک انسان کا سارا جسم تندرست ہو لیکن ایک حِصّہ میں بیماری ہو تو طبیب صرف اسی کا علاج کرے گا اور باربار اسی کو دیکھے گا۔یہی حال واعظ کا ہے جو اصل میں روحانی طبیب ہوتا ہے۔جس قسم کے روحانی امراض میں وہ اپنے سامعین کو مبتلا پاتا ہے اسی قسم کے وعظ سے ازالہ امراض کا نسخہ تجویز کرتا ہے۔آنحضرتؐ کا ایک ہی سوال کے مختلف جواب دینے میں حکمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مختلف لوگ آکر مختلف قسم کے سوال کیا کرتے تھے کہ یاحضرت سب سے بڑی نیکی کیا ہے تو آپ ہر ایک کو الگ الگ جواب دیا کرتے تھے۔کسی کو کہا کہ