ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 441
ماںباپ کی خدمت کرو۔کسی کو مال خرچ کرنے کو کہا۔ایک کو آپؐنے اپنی زبان پکڑ کر کہا کہ اس کو قابو میں رکھ۔ایک کو مغلوب الغضب ہونے سے منع کیا۔اس پر بعض نے اعتراض کیا ہے کہ سوال تو ایک تھا مختلف جواب کیوں دئیے گئے؟ اصل یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اُمت کے حکیم ہوتے ہیں۔وہ جس شخص میں جس خلق کی کمزوری دیکھتے ہیں اسی کی تکمیل و نگہداشت کی تاکید کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے نیکی کرنے کے اسباب معیار مختلف ہوتے ہیں۔کوئی تو قوم اور برادری کے دباؤ سے، کوئی آبائی تقلید اور رسم و رواج کی پابندی سے، کوئی کسی حاکم وغیرہ کی خوشنودی کے لئے نیک کام کیا کرتا ہے جو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ دراصل کوئی خوبی کی بات نہیں ہوتی۔اس بناء پر انبیاء علیہم السلام وہ بات بتایا کرتے ہیں جس سے طبیعت تو مضائقہ کرے مگر شریعت حکم کرے کہ یہ کام کراؤ۔پھر نفس پر زور دے کر اسے وہ کام کرنا پڑے جو عنداللہ موجب ثواب و برکت ہو۔قرآن میں مذکور انبیاء کے وعظ قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کے بیان میں جا بجا ان کے وعظ بھی مذکور ہیں۔اگر ان کو بنظر غور و تعمّق پڑھا جائے تو واعظین کو صاف معلوم ہوجائے کہ اسلام نے ان کے کیا فرائض مقرر کئے ہیں۔مگر مسلمانوں نے افسوس قرآن شریف کو پس پشت ڈال دیا ہے۔وہ قرآن مجید کو پڑھتے نہیں۔جو پڑھتے ہیں وہ سمجھتے نہیں، اور جو سمجھتے ہیں وہ اسے اساطیرالاوّلین یعنی قصے کہانیوں سے زیادہ وقعت نہیں دیتے۔شعیبؑ کاقوم کو وعظ ہم اس مقام پر حضرت شعیب علیہ السلام کا وعظ جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا تھا لکھتے ہیں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو کہ وعظ کی غرض و غایت اور علت غائی کیا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے۔َ