ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 439
مذہبی ضرورتوں کے مطابق واعظوں کو وعظ کہنے کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کے اصول و فروع کی تلقین کی جاتی ہے۔یہ مدرسہ کئی مہینے سے قائم ہوچکا ہے اور جو لوگ اس کے امتحان میں کامیاب ہوں گے وعظ کی خدمت انہیں کو مفوض ہوگی۔کاش! ہندوستان میں بھی ایسا ہی کوئی انتظام ہوتا۔وعظ اگر ضرورت زمانہ کے معیار پر ہوا کرے تو مسلمان بہت جلد فرض شناس بن سکتے ہیں۔مگر اس کا کیا علاج ہے کہ ہم نے کوئی معیار ہی نہیں رکھا ہے اور کسی قسم کی اصلاح کا بندوبست ہی نہیں کرتے۔‘‘ واعظین کی اقسام واعظوں کے فرائض پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ بہت کم ایسے واعظ ہیں جو اپنے فرائض منصبی سمجھنے کی اہلیت و استعداد رکھتے ہوں۔ایک کومیٹریکولیشن امتحان کی ناکامی یا ناقابلیت حصول ملازمت وعظ و نصیحت کے منبر کو مزین کرنے کے قابل بناتی ہے۔دوسرا ارہ کشی سے تنگ آکر آخیر ربع (النبا: ۲)کا نوک زبان حفظ کرتا ہے اور مشرکوں کے توہمات،مجوسیوں کی عجائب پرستی اور یہودیوں کے افسانے جو آباء و اجداد سے سینہ بسینہ سنتا چلا آیا ہے انہیں سے اپنی مجالس وعظ کو گرماتا ہے۔تیسرے کو قدرت نے حنجرہداؤ دی عطا فرمایا ہے۔وہ روشن دل، نجات المومنین اور احوال الآخرت کے چند اشعار یاد کرکے دستار فضیلت سر پر باندھ لیتا ہے اور دربدر، مسجد بمسجد اور قریہ بقریہ وعظ کہتا پھرتا ہے۔غور کرو اس قسم کے لوگ اسلامی علوم قرآن وتفسیر، حدیث وفقہ سے خود نابلد ہیں۔مذہبی ضرورتوں سے نا آشنائے محض ہیں۔ضروریات زمانہ سے کچھ خبر نہیں رکھتے۔ان سے قومی اصلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ اسلامی علوم میں دسترس رکھنے والے واعظین کا حال اب ان لوگوں کا حال سنئے جو اسلامی علوم میں خاصی پائے گاہ رکھتے ہیں۔ان میں سے بھی بہت کم ایسے ہوں گے جو اپنے فرائض منصبی کو خشیۃ اللّٰہ سے بجا لاتے ہوں۔اکثر حِصّہ ان کا ایسا ہے جو صرف مسلّم باتیں لوگوں کے آگے بیان کرکے ان کو خوش کردیتے ہیں حالانکہ ان باتوں سے نہ تو لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ ان کے بیان