ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 395
ہوگیا اور بعض کو خیال پیدا ہوا کہ شاید اس تحریر میں اور اس تقریر میں کوئی اختلاف ہو۔واقعات آپ کی خدمت میں عرض ہوئے تو جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ میرے بیان میں اختلاف نہیں ہوتا جو اب کہا ہو یا پہلے کہا ہو۔اس واقعہ کو میں نے یہاں صرف اس لیے دوہرایا ہے کہ آج سے ۶ سال پہلے کی بات جو آپ کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے آج ظاہر کی ہوئی خواہش سے کیسی مطابق ہے۔میرے استفسار پر فرمایا کہ سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستورالعمل ہو اور اپنی اولاد کے لیے جو خواہش ہے وہ اس سے باہر نہیں جاتی کہ قرآن شریف کا فہم، اس پر عمل، اس کی خدمت ہو۔کیسا مبارک ہے وہ باپ جس کی یہ خواہش ہو اور خوش قسمت ہے وہ بچہ جس کے باپ کے یہ ارادے ہوں۔آج ہماری خواہشوں کا مرکز اعلیٰ عہدے اور اعلیٰ ڈگریاں ہیں۔(ماخوذ از کالم ’’ایوانِ خلافت‘‘ الحکم جلد۱۵ نمبر۲۳و۲۴ مؤرخہ ۷ و ۱۴؍ جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲،۳) ۲۲؍ جون ۱۹۱۱ء اہل اللہ کی برکت فرمایا۔یہاں کی نہ تو زبان پسندیدہ ہے، نہ لباس عمدہ، نہ خوراک اعلیٰ، نہ باشندوں کی وضع قطع۔مگر پھر بھی تم لوگ مختلف ممالک سے یہاں جمع ہو۔یہ کس کی برکت ہے؟ ایک شخص اللہ کا نام لینے والے کی۔دنیوی اعزاز کوئی چیز نہیں فرمایا۔محض دنیوی اعزاز کوئی چیز نہیں۔دیکھو جہانگیر، اکبر، شاہجہان بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں ان کے سادہ نام لیے جاتے ہیں۔مگر انہی کے زمانہ میں جو خدا کے پیارے بندے گزرے ہیں ان کے نام کے ساتھ حضرت اور علیہ الرحمۃ لگایا جاتا ہے۔یہ کس لیے ہے؟ اس لیے کہ وہ خدا کے