ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 394 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 394

اللہ تعالیٰ پر افترا کرنا آسان نہیں اور پھر یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص افتریٰ کرے اور اس افتریٰ کو لکھ کر شائع کرے۔قرآن مجید میرے لیے رہنما تھا۔پہلے مامورین و مرسلین کے واقعات میرے سامنے تھے پس خدا نے محض اپنے فضل سے مجھے مرزا صاحب کو ماننے کے لیے نشانات سے مستغنی کردیا تھا۔سب سے بڑی خواہش پھر میں نے سوال کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ فرمایا۔مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستورالعمل ہو۔بلند ہمتی حضرت خلیفۃ المسیح ؓ کی اولوالعزمی اور بلندہمتی کے بہت سے نظائر ہیں اور وہ آپ کی سیرت لکھنے والے کو تصریح سے لکھنے کی توفیق ملے گی۔مجھے یہاں ایک مختصر واقعہ دینا ہے۔آپ کے چھوٹے بچے عبدالسلام نے (جو بورڈنگ ہاؤس میں اپنے بھائی عبدالحی کے ساتھ رہتا ہے۔) ایک دن اپنے دو استادوں کے لیے دعا کی تحریک کی۔آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ایک بچہ جو دعا کی فلاسفی اور حقیقت سے محض ناآشنا ہے اس میں یہ ایمان پیدا ہونا کہ دعا بڑی عمدہ چیز ہے معمولی امر نہیں۔تھوڑی دیر تک اس دعا کے بعد وہ اِدھر اُدھر پھرتا رہا اور پھر یک دفعہ آیا اور کہا۔’’ابا جی! دعا کرو میں چوتھی میں ہوجاؤں۔‘‘اس پر فرمایا کہ چوتھی کیا بلا ہوتی ہے۔بڑی سے بڑی کامیابی جو دنیا میں ممکن ہے وہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اور میں اس کے لیے دعا کرتا ہوں۔چنانچہ آپ نے دعا کی! بیان میں اختلاف نہیں ہوتا ایک موقعہ پر انہی ایام علالت میں شدت مرض میں آپ نے کوئی کاغذ لکھا۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو اور دوسرے احباب کو آپ نے اس کے بعد کچھ نصائح کیں۔ان کے متعلق وصیت کا سوال پیدا