ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 393 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 393

لوگوں کو شامل کرلو۔اس مرتبہ اور بھی کم مقامات ہوں گے جو مشکل رہ جائیں گے۔پھر عام طور پر سناؤ۔تب خدا تعالیٰ ایسی مدد فرمائے گا کہ مشکلات آسان ہوں گی۔اعجازی نشانات میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا کبھی آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ آپ حضرت صاحب سے کوئی اعجازی نشان دیکھیں۔یہ جدا امر ہے کہ آپ نے ایسی درخواست کی ہو یا نہ کی ہو، مگر محض خواہش پیدا ہوئی ہو؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ مجھے کبھی یاد نہیں کہ میرے دل میں کبھی اس امر کا خیال پیدا بھی ہوا ہو کہ حضرت صاحب اپنی صداقت میں کوئی نشان دکھائیں۔اگرچہ یہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات ظاہر کیں اور ہم نے بہت سے خوارق مشاہدہ کیے۔مگر وہ میری کسی ایسی خواہش کا نتیجہ نہیں۔عبدالحی کے متعلق جو واقعہ ہے اس میں بھی میری کسی خواہش یا آرزو کو دخل نہیں۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس کو ایک آیت اللہ کے رنگ میں پیدا کیا۔آپ کو یاد رہے (ایڈیٹر الحکم کو خطاباً فرمایا) کہ آپ ایک امرتسری طبیب کا پیام لائے تھے کہ وہ اولاد نرینہ کے لیے مجھے طبی مشورہ دے۔میں طبیب ہونے کی و جہ سے جانتا ہوں کہ ایسے امراض کا علاج ہوسکتا ہے۔لیکن آپ کو یاد رہے کہ میں نے آپ کو یہی جواب دیا تھا کہ میں صرف اولاد نہیں چاہتا ہوں۔سعادت مند اور صالحہ اولاد کا کوئی نسخہ ہو تو جس قدر روپیہ بھی مانگو دینے کو تیار ہوں۔پس اولاد جیسے امر کے لیے میں نے حضرت صاحب سے کبھی نہیںکہا۔خدا تعالیٰ نے اپنی غریب نوازی سے میرے بچہ کو ایک نشان بنادیا۔تو میں نے کبھی خواہش نہیں کی کہ حضرت صاحب سے کوئی نشان دیکھوں۔ہاں میں اس پر ہمیشہ ایمان رکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحب سے جو وعدے کیے ہیں وہ سچے ہیں۔وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت خوارق کے دکھانے کے لیے مویّد اور منصور ہوں گے۔اسی ایمان کی بنا پر ڈاکٹر جگن ناتھ کی دعوت کو قبول کرلیا تھا۔میرے لیے نشانات کی اس واسطے ضرورت نہ تھی کہ میں آپ کی سچائی کے لیے اسی قدر کافی سمجھتا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔