ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 364 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 364

کچھ ایسا جوش تھا کہ بہت کچھ اس مضمون پر کہنا چاہتے تھے اور اس جوش کو روک نہ سکتے تھے۔اس لئے نہایت محبت سے فرمایا کہ آپ اب تشریف لے جائیں آپ کو دیکھ کر بہت تحریک بولنے کی ہوتی ہے اور وہ میرے لئے اس وقت مضر ہے۔یہ آپ کے جوش اصلاح کا ایک نمونہ تھا جو دیکھنے والے ہی دیکھ سکتے تھے۔میرے مخدوم بھائی نے فائدہ عام کے لئے اجازت دی ہے کہ میں ان کے سوال اور آپ کے جواب کو شائع کردوں۔خدا کرے اپنی اصلاح کے لئے ایسا جوش ہمارے اندر بھی پیدا ہو اور ہم اپنی کمزوریاں حضرت امام کے حضور عرض کرنے میں کبھی شرم نہ کریں۔میں تو اسے اعلیٰ درجہ کی خوبی سمجھتا ہوں۔(ایڈیٹر) نامۂ مریض تو دستگیر شو اے خضر پے خجستہ کہ من پیادہ می روم و ہمرہان سوارانند السلام علیک یا امیر المومنین ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ وطیب صلا تہ وتائیداتہ وعونہ و صونہ۔رات دن صبح شام ہر وقت کی جلوت ہے کوئی موقعہ خلوت کا مجھ کو میسّر نہیں ہے۔اونچی جماعتوں کے سمجھدار بچوں میں رہتا ہوں جن کے لئے میرا نیک نمونہ اور میری عملی زندگی ہی زیادہ مفید اور اثر انداز ہوسکتی ہے۔اب کئی روز سے میں اپنی ایک کمزوری سے مطلع ہو کر سخت خلجان میں گرفتار ہوں۔وہ کمزوری یہ ہے کہ میرے اعمال نیک کی کسی کو اطلاع ہوتی ہے تو اس سے میرے دل میں سرور پیدا ہوتا ہے۔یعنی میرا قلب در اصل ریا کے پلید مرض سے ماؤف ہے۔اپنے اس مرض کی اطلاع پا کر مجھ کو سخت کرب اور تکلیف ہے۔کبھی جی چاہتا ہے کہ ملامتیہ فرقہ کے اعمال بجالاؤں لیکن اس میں دوسروں کے ابتلا کا اندیشہ ہے۔احیاء العلوم میں بھی ریا کاباب مطالعہ کیا۔لیکن میں تو اس قدر کمزور ہوں کہ اس کے علاج پر بھی کاربند نہیں ہوسکتا۔میری روح تحلیل ہوئی جاتی ہے۔حضور کوئی علاج بھی بتائیں اور دعا بھی بہت فرمائیں۔حضور سے یہ عرض کرنا بھی درحقیقت ریا سے خالی نہیں لیکن امید ہے کہ اس طرح میرے درد کی دوا ہوجائے