ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 365
گی۔انشاء اللہ تعالیٰ ؎ مرا شیشہ بر دوش و باران سنگ نہ یارائے رفتن نہ جائے درنگ حضرت کا جواب فرمایا۔بعض غلطیاں مسلمانوں میں ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے دور ہوسکتی ہیں۔نادان فلاسفروں نے معیار صداقت پر کتابیں لکھی ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔اگر وہ کوئی ایسا معیار صداقت قائم کردیتے یا قائم ہوجاتا تو پھر اختلاف اٹھ جاتا۔دو بھائی ہوتے ہیں ایک ریاضی سے دلچسپی رکھتا ہے دوسرا لٹریچر سے۔میں نے ایک مرتبہ مولوی محمد علی سے کہا کہ فلسفہ کا ایک مسئلہ بتاؤ۔اس نے کہا کہ مجھے دلچسپی نہیں۔حالانکہ وہ ایم۔اے ہیں۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کے معاملہ میں ایک شخص خود ایک پتھر کو تراشتا ہے اور باوجود اس کا خالق ہونے کے اس کے آگے سجدہ کرتا ہے دوسرا درخت کے سامنے سجدہ کرتا ہے اور تیسرا قبر کو معبود بنا لیتا ہے۔میں نے ایک رئیس کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ سے مٹی کا عضو تناسل بنا کر آپ ہی اس کی پوجا کرتا تھا۔کیا یہ عقل وفکر کی بات ہوسکتی ہے۔غرض معیار صداقت قائم نہیں ہوسکتا وہ معیار صرف خدا کا فضل ہے اس پر ہی کام چلتا ہے۔ملامتی فرقہ کے اعمال اختیار کرنے سے اصلاح کا خیال غلطی ہے۔یہ فرقہ کم عقلی سے پیدا ہوا اور شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔سب سے زیادہ ملامتی انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں ان سے بڑھ کر ملامت کیا کسی کو ہوئی؟ کبھی نہیں۔نہ کسی امیر کو نہ فقیر کو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہ ملامت ہوئی کہ ملک چھوڑنا پڑا۔حضرت لوط اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کو بھی ملک چھوڑنا پڑا اور اسی طرح پر آنحضرت ﷺ اور آپ کے اتباع کو کس قدر ملامت ہوئی۔اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت صاحب کو جس قدر گالیاں دی گئی ہیں کیا کسی ننگے فقیر کو بھی دی گئی ہیں۔ایسے فقیر جو ملامتی بنتے ہیں انہیں تو مجذوب کہہ دیتے ہیں اور