ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 359
جانب نیاز محمد حضور کے پاؤں دبانے لگ گیا۔فرمایا۔جَزَاکَ اللّٰہُ۔دوسرے جانب اخویم منشی احمد الدین صاحب بیٹھے ہوئے پاؤں دباتے ہیں۔میں نے طاعون زدہ لاشوں کا نظارہ جو پہلے دیکھا تھا عرض کیا۔فرمایا۔اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ۔اس خواب کی تعمیل میں حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ استغفار بہت کرنا چاہئے۔یہ طاعون کا علاج ہے خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ بخشوانے چاہئیں اور صدقہ دینا چاہئے۔فرمایا کہ ہمارا مرزا تو عالم ارواح میں بھی استغفار سکھاتا ہے۔وہ جاہل لوگ ہیں جو ہمیں بے ایمان کہتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنی ایمان کی فکر کریں۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۱۱ء صفحہ ۲) ایک شخص کے چند سوالات اور ان کے جوابات سوالات (۱) مردہ کو غسل دینا فرض ہے یا مستحب یا سنت ہے؟ (۲) کس حالت میں مردہ کو غسل دینا چاہئے؟ (۳) کیا تمام ناگہانی اموات شہادت کا درجہ رکھتی ہیں یا کہ شہادت ہی ہونے میں؟ (۴) کون سی اموات شہادت کا درجہ رکھتی ہیں اور ان سب میں مردہ کو غسل دینا چاہئے یا نہیں؟ (۵) نماز جنازہ میں سجدہ کیوں نہیں کرتے ہیں؟ (۶) جنازہ کے وقت میت کو آگے کیوں رکھتے ہیں؟ (۷) بغیر غسل کے جنازہ ہے یا نہیں؟ (۸) جنازہ روح کا پڑھا جاتا ہے یا کہ خالی جسم کا؟ جوابات (۱) غسل میت مسنون ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں غسل دیا جاتا تھا۔اور اس کو فرض واجب مستحب نہیں فرمایا۔