ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 358
اگر یہی بات ہے تو پھر تلوار مظلوم کو کیوں کاٹتی ہے۔مومن متشدد ہوتا ہے ایک شخص نے ذکر کیا کہ حضرت اقدس نے غیر احمدیوں کے حق میں بعض مقامات پر ایسی تحریریں لکھی ہیں جن کو ان کی نسبت بولنے سے دل ڈرتا ہے۔مثلاً ایک مقام پر فرمایا ہے تمام سعید لوگ خدا کی اس آواز کو سن کر قبول کریں گے سوائے ان کے جو دوزخ کے بھرنے کے واسطے ہیں۔فرمایا۔ہمارے مخالف ان عیسائیوں کو جو بلاد یورپ و امریکہ میں رہتے ہیں کیا سمجھتے ہیں۔دہریہ کہتے ہیں اگر خدا میں رحم ہوتا تو چھوٹے بچے نہ مرتے اور نہ اس قدر ان کو مصیبتیں ہوتیں جن میں چھوٹی عمر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پس اس قسم کے ترس کے لفظوں کا نتیجہ دہریت ہے یا مرزا کا انکار کر دیا جاوے۔تناسخ کا مسئلہ بھی ایسے ہی خیالات سے پیدا ہوا ہے۔فیثا غورث کو انہی مشکلات نے تناسخ کا قائل کر دیا تھا۔ہمیں ان فتووں کی پرواہ نہیں ذکر تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے لکھا ہے کہ اگر احمدی مرزا صاحب کو نبی کہنا چھوڑ دیں تو ہم کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے۔فرمایا۔ہمیں ان کے فتوؤں کی کیا پرواہ ہے اور وہ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں۔جب سے مولوی محمد حسین نے فتویٰ دیا وہ دیکھے کہ اس کے بعد آج تک اس کی عزت کہاں تک پہنچ گئی ہے اور مرزا صاحب کی عزت نے کس قدر ترقی کی ہے۔مرزا صاحب کی تعلیم عالم ارواح میں برادرم منشی محبوب عالم صاحب احمدی گوجرانوالہ کا ایک خط حضرت میاں خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش ہوا جس میں برادر موصوف نے اپنا ایک خواب لکھا ہے۔دیکھا کہ ’’دار الامان میں حضور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مرحوم و مغفور تقریر فرما کر اور تھک کر ایک چارپائی پر تشریف فرما ہیں۔چارپائی پر حضور کے راست