ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 360 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 360

(۲) شہداء کو غسل نہیں دیا جاتا تھا۔(۳) تصریح سے غرق شدہ اور جو دیوار کے نیچے دب کر مرے یا اسہال سے مرنے والے، اور درد زہ سے مرنے والی اور جو خود حفاظتی اور مال کی حفاظت کے باعث مرے اس کو شہید فرمایا۔تمام ناگہانی اموات کا حکم میں نے نہیں پڑھا۔یا مجھے یاد نہیں۔(۴) کا جواب نمبر ۳ میں آ گیا۔(۵) شرع نے جنازہ میں سجدہ کا حکم نہیں دیا۔(۶) یہی جواب نمبر ۵ مسلمان مومن کو بس ہے۔(۷) بغیر غسل جنازہ جائز ہے۔کیونکہ غسل فرض اور شرط جنازہ نہیں۔جنازہ اس انسان کا ہوتا ہے جو مرا ہے۔(۸) روح اور جسم خاکی کا ذکر شریعت میں نہیں آیا۔والسلام (نور الدین) یار کو کیونکر منائیں ایک صاحب کی درخواست بدیں الفاظ پیش ہوئی مینوں رٹھڑا یار مناد یہو! فرمایا۔لکھ دو کہ قرآن شریف پڑھو اور اس پر عمل کرو تو رٹھڑا یار منی جائے گا۔یہی تدبیر حق ہے۔فرمایا ہے یہ جناب حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی سہ حرفی کا ایک شعر ہے۔کوئی تدبیر تھیوے آہ جے رٹھڑا یار منیوے آہ (البدر جلد ۱۰ نمبر ۲۵ مؤرخہ ۲۰؍ اپریل ۱۹۱۱ء صفحہ ۶)