ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 357

مجھے ہوا ہے۔ایسا ہی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اس حق کی تکذیب کرے یا تو مرزا صاحب اپنے دعوی میں سچے تھے ان کو ماننا چاہئے یا جھوٹے تھے ان کا انکار کرنا چاہئے۔اگر مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے سچ بولا اور وہ فی الواقع مامور تھے اور اگر ان کا دعویٰ جھوٹا ہے تو پھر مسلمانی کیسی؟ مخالفین کو سلام ۶؍ اپریل ۱۹۱۱ء کو حضرت خلیفۃ المسیح ؓ بعض خطوط کا جواب لکھوا رہے تھے ڈاک میں ایک مخالف کا خط بھی تھا آپ نے محرر ڈاک کو فرمایا کہ اس کا سرنامہ لکھو جناب من! دوبارہ فرمایا صرف جناب رہنے دو اور سلام نہ لکھو کیوں کہ یہ لوگ خدا کے فضل سے دور ہیں اور ہم سے ایک طرف ہیں۔اور اس موقع پر اپنے ایک استاد کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ ایک شخص کو جو اسلام سے منکر تھا سرنامہ لکھا مرکز محیط علماء و محیط مرکز فضلاء۔اور فرمایا کہ یہ سرنامہ اس لئے منتخب کیا کہ ہمارا اور ان کا اختلاف اسی قسم کا ہے۔پھر حضور نے فرمایا کہ ہمارے پاس ایک ہندو نے اپنے لڑکے کے واسطے دعا کو کہا۔ہم نے اس کے سامنے جب دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دونوں جہان میں اس کا بھلا کرے۔تب اس نے کہا کہ آپ ایسی دعا نہ کریں کیونکہ آپ جو دونوں جہان کی بھلائی چاہتے ہیں اس کے تو یہ معنے ہیں کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ایسا اعتراض ناجائز ایک دوست نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں عرض کیا کہ اگلے روز حضور نے فرمایا تھا مرزا صاحب کا انکار ہمارے اور مخالفوں کے درمیان بغاوت کا مقدمہ ہے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔نیز جن کا انکار جان بوجھ کر نہیں ان کو کس طرح ملزم کہا جاوے؟ فرمایا۔گورنمنٹ کے قانون کا نہ جاننا کوئی عذر نہیں ہے۔اس دوست نے عرض کیا گورنمنٹ کو چونکہ دلوں کا پورا علم نہیں ہوتا اس لئے وہ سزا دینے میں معذور ہے اور اللہ تعالیٰ تو ہے۔فرمایا۔