ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 343
ہدایات درج ہیں۔حضرت نے فرمایا شیخ محی الدین ابن عربی ایک استخارہ ہر روز آئندہ آٹھ پہر کے کاموں کے لئے کر لیا کرتے تھے۔سوائے ان اوقات کے جن میں نوافل کا پڑھنا ممنوع ہے۔مثلاً صبح صادق کے پھٹنے سے طلوع آفتاب تک یا نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک غرض معلومہ کو مد نظر رکھ کر کسی وقت دو رکعت نماز نفل پڑھی جاوے۔اس کے بعد دعا مندرجہ ذیل بعد فراغت از نماز ہاتھ اٹھا کر پڑھ لی جاوے یا نماز میں ہی تشہد کے بعد پڑھ لی جاوے۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ اسْتَقْدِرُکَ بِقَدْرَتِکَ وَاسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ۔فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَاالْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ امْرِیْ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَ یَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ ارْضِنِیْ بِہٖ۔(صحیح بخاری کتاب التھجد باب ما جاء فی التطوع مثنی مثنی) ترجمہ:۔یاالٰہی میں تیرے علم سے خیر مانگتا ہوں۔تیری قدرت میں سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم میں سے فضل مانگتا ہوں کیونکہ تو سب طاقتوں والا ہے۔میں بیکس ہوں تو علیم ہے۔میں جاہل ہوں تو غیب کا جاننے والا ہے۔اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین دنیا اور عاقبت کے لئے اچھا ہو تو میرے لئے اسے مقدر کر دے اور میرے لئے آسان کر دے۔پھر اس میں مجھے برکت عطا فرما اور اگرتیرے علم میں یہ کام میرے دین و دنیا کے لئے برا ہو تو اس کام سے مجھے روک دے اور مجھے اس سے پھیر دے۔اور جیسے بھی یہ کام ہو مجھے اس میں خیر دے اور مجھے اس سے راضی کر دے۔استخارہ کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا مشیر بنا لیتا ہے۔استخارہ کے معنے ہیں خیر و برکت طلب کرنا۔اس کا نتیجہ یہ ضروری نہیں ہوتا جیسا عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کے متعلق ضرورہی کوئی اشارہ فرمائے بلکہ یہ کہ اگر مجوزہ کام مفید ہو تو اس کے کرنے کی توفیق دے اور اس میں سہولت وبرکت رکھ دے اور اگر کام مفید نہ ہو تو اس سے روک دے اگر عربی دعا یاد نہ ہو تو اپنی زبان