ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 302 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 302

ضرور جاؤ ہم کچھ روپیہ دے دیں گے اور مدد کریں گے۔میں نے ذکر کیا کہ شیخ ہاشم علی صاحب نے مرتد ڈاکٹر کے جھوٹے ہونے پر صدقہ اور خیرات کی ہے۔فرمایا۔جزاہ اللّٰہ احسن الجزاء اور دعائیہ کلمات فرماتے رہے۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد ۱۵ نمبر ۳مؤرخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۰) وصیت پچھلی رات کو حضرت صاحب نے فرمایا کہ دل پر کچھ بوجھ سا معلوم ہوتا ہے۔طبیعت بظاہر اچھی تھی تاہم احتیاطاً رات کو درمیان شب جمعرات و جمعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ قلم دوات کاغذ لاؤ۔میں کچھ لکھ دوں۔پچھلی رات کا وقت تھا سوائے شیخ تیمور صاحب ایم۔اے کے جو دیگر رات کو وہاں رہنے والے خادم موجود تھے ان کو بھی … ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے کچھ لکھا اور اسے ایک لفافہ میں بند کرا کر اپنا انگوٹھا لگایا۔۔۔۔دوسرے کاغذ پر بھی کچھ لکھ کر وہ بھی ایک لفافہ میں بند کرا دیا۔اس دوسرے کاغذ میں ایک سطر شیخ تیمور صاحب سے بھی لکھوائی اور نیچے اپنے دستخط کر دیئے اور ان کی اشاعت سے منع کیا۔اس واسطے ہر دو کا مضمون شائع نہیں کیا گیا اور امید ہے کہ حضرت صاحب کی زندگی میں ان کی اشاعت کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔اللہ تعالیٰ حضرت صاحب کو مدت تک خدام کے سر پر قائم رکھے۔لیکن جب قوم پر مصیبت کا دن آئے گا کہ حضرت خلیفۃ المسیح سلّمہ الرحمن ان سے بظاہر جدا ہوں اس وقت اپنے مرشد کی علیحدگی کے غم سے جو افسردگی قوم پر چھائے گی اس کو دور کر کے ملت احمدیہ میں دوبارہ زندگی پیدا کرنے والی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں الفاظ کی متابعت ہو گی جو ان بند لفافوں میں درج ہیں۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۳ مؤرخہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۱) ایمانی قوت حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہ العالی کی ایمانی قوت کے متعلق پہلے بھی کئی بار ذکر کر چکا ہوں مگر یہاں بعض جدید واقعات اس کی تائید میں پیش کرنے خالی از فائدہ نہ ہوں گے۔