ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 301

ہوگئے ہیں اور دعاؤں میں لگ گئے ہیں اور ایک تقرب الی اللہ کا موقعہ مل گیا ہے۔پھر عرض کیا کہ بہت سی باتیں جو دلائل سے سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ حضور کے عمل کو دیکھ کر سمجھ آ گئیں۔فرمایا۔دلائل کیا ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے جو کچھ ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کی طبیعت پر توحید کا کس قدر غلبہ ہے۔۲۳؍ جنوری کی صبح حضرت کی طبیعت اور بھی اچھی ہے اور صحت خدا کے فضل سے عود کر رہی ہے۔لِلّٰہ الْحَمد۔ڈاکٹر عبد الحکیم کے اس ذکر کے متعلق یہی امور خاکسار ایڈیٹر الحکم سے بھی فرمائے۔میں نے عرض کیا کہ حضور آپ کی بیماری اور اس تکلیف کو دیکھ کر دل میں بڑا رنج اور کوفت پیدا ہوتی ہے۔مگر ساتھ ہی یہ امر بڑا ہی خوش کن ہے کہ اس کے ذریعہ عظیم الشان نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔اور جس جس قدر آپ کی تکلیف کا اندازہ کیا جاتا ہے اسی قدر اس نشان کی عظمت بڑھ جاتی ہے۔فرمایا۔اگر یہ بڑا نشان نہ تھا تو حضرت صاحب کو اتنا عرصہ پہلے کیوں دکھایا گیا۔یہ اس ایمان کا ثبوت ہے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہے اور آپ کے نشانات کی کس قدر عظمت آپ کے دل میں ہے۔فرمایا۔عجیب عجیب مضامین اس بیماری میں سوجھائے گئے ہیں موقعہ ملے گا اور خدا چاہے گا تو بیان کریں گے۔میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر بڑی امیدیں ہیں۔فرمایا۔فضل ہی تو ہے۔پھر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب تشریف لے آئے اور ان سے بیماری کا کچھ ذکر کرتے رہے۔اسی اثناء میں میاں دین محمد المعروف بگا نے آ کر سلام علیکم کہا بڑی خوشی سے جواب دیا۔اور اسی وقت شیخ تیمور کو حکم دیا کہ ان کو ایک روپیہ دے دو۔میاں دین محمد حضرت مسیح موعودؑ کے ایک مخلص خادم جان محمد مرحوم کا بیٹا ہے اور حضرت ہمیشہ اس کی مدد کرتے رہتے ہیں۔حضرت کی عادت ہے کہ بدوں سوال ایسے لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں۔غرض حضرت نے فوراً اس کی مدد کی۔اس کے بعد اس نے ایڈیٹر الحکم کے ذریعہ اپنے نکاح کے لئے ایک رشتہ کی تلاش کے لئے جانے کی اجازت چاہی۔حضرت نے فرمایا۔