ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 303
۲۳؍ جنوری کی صبح کو جب کہ ابھی ماشرہ کا ورم موجود تھا اور آپ کو تکلیف تھی گو بمقابلہ سابق بہت آرام تھا۔قرآن کریم اورآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔مجھے اپنی اولاد کا کچھ بھی فکر نہیں۔مخلوق کی نفع رسانی کا خیال حضرت خلیفۃ المسیح کا وجود تو مسلّم طور پر نافع الناس ہے۔ہر شخص قطع نظر وہ مومن، دوست، دشمن کے آپ کے فیوض سے بلا تکلّف فائدہ اٹھا سکتا ہے۔علالت کے اس سخت حملہ کے دنوں میں یہی یہ سلسلہ بدستور جاری رہا ایک شخص نے آ کر اپنی ضروریات کا ذکر کیا اور کسی شخص کی شکایت کی کہ اس کا کفاف معین اسے نہیں دیا گیا۔فرمایا۔اس کو ہمارے گھر سے دے دو۔ایک دن شام کو میاں دین محمد (المعروف بگا میاں) آپ کے پاس آیا اور کہا میری والدہ سلام علیکم کہتی ہے۔جواب کے ساتھ ہی حکم دیا ابھی اس کو ایک روپیہ دے دو۔پھر اس نے اپنی شادی کے لئے ذکر کیا کہ میری والدہ ایک جگہ تلاش رشتہ میں جانا چاہتی ہے۔فرمایا۔ضرور جائے ہم روپیہ دیں گے۔پھر میاں دین محمد نے ایک دوائی بھی بیان کر دی کہ یہ استعمال کریں۔فرمایا۔بہت اچھا۔نیکی کے کاموں کے لئے ادنیٰ تحریک پر بھی طیار رہتے ہیں اس بیماری کی حالت میں میں نے دیکھا ہے کہ کسی نیک کام کی ادنیٰ تحریک بھی کی جاوے تو آپ اس کی تعمیل کے لئے فوری جوش رکھتے ہیں مولوی عبد القادر صاحب لودہانوی نے رؤیا میں دیکھا کہ مولانا مولوی محمد قاسم مرحوم حضرت خلیفۃ المسیح کی عیادت کو آئے ہیں اور انہوں نے ایک سو روپیہ صدقہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔حضرت کو یہ خواب سنائی گئی تو آپ نے فوراً حکم دیا کہ ایک سو روپیہ نقد صدقہ کر دو۔غیر معمولی صفات کا اظہار حضرت خلیفۃ المسیح کی خصوصیات میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ آپ کبھی روتے نہیں۔میں نے اس بیماری سے پہلے صرف … آپ کو دو مرتبہ آنسو بہاتے دیکھا ہے ایک مرتبہ اپنے ایک بچے کی وفات پر۔اس وقت میرے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا تھا کہ