ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 300 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 300

ہے کہ مولوی صاحب زندہ ہیں۔ان کا کوئی اعتبار نہیں اور خود یہ افتراء کرتا ہے کہ ۱۱؍ جنوری کو بتانا ہے کہ حضور کو طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی تھی اور یہ کہ دراصل اس کی پیشگوئی پوری ہو چکی ہے اور اس بات کو ہم نے چھپا رکھا ہے۔شیخ یعقوب علی صاحب کو فرمایا کہ کل کا پرچہ اخبار جو نکلنا ہے اس میں اس کے متعلق کچھ مضمون لکھ دو۔شیخ صاحب نے عرض کیا حضور بہتر لکھ دوں گا۔(فضل دین) ۲۳؍ جنوری ۱۹۱۱ء ۹ بجے رات، شیخ تیمور صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے جو چند کلمات ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو رخصت کرتے وقت فرمائے تھے ان کی نسبت کچھ شور ہوا ہے۔اور ڈاکٹر صاحب نے جو یہ کہا تھا کہ حضور کی یہی وصیت ہے۔اس کا بھی چرچا ہے فرمایا کہ لوگ تو بے سمجھ ہیں یہ تو چند ضروری باتیں تھیں جو ڈاکٹر صاحب کو میں نے کہی تھیں۔مصیبت کے وقت انسان کے اندرونی حالات کا پتہ لگ جاتاہے اور میں تو وہی کہتا ہوں جو میرے دل میں ہوتا ہے۔فرمایا۔میری باتوں میں اختلاف نہیں ہوتا۔یہ جو اس وقت کہی ہے یا جو کسی اور وقت کہی ہے کوئی باہم متخالف نہیں۔شیخ تیمور نے اپنی … حضرت کی اس تقریر کی تصدیق کی کہ میں نے دیکھا ہے کہ جو بات حضور تندرستی میں فرماتے ہیں وہی شدت کرب میں نکلتی ہے۔پھر آپ اپنی بیماری کے متعلق کچھ باتیں کرتے رہے اور فرمایا کہ دوائی جو ہونٹوں پر لگانی تھی وہ زبان پر بھی لگ گئی جس سے زبان پر خراش ہوتی ہے۔مولوی قطب الدین صاحب نے ایک دوائی بنائی تھی وہ منگواؤ۔اسی اثناء میں آ کر شیخ تیمور نے ذکر کیا کہ اگرچہ حضور کی بیماری کے ایام میں مَیں تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکا۔مگر پھر بھی حضور کی حالت دیکھ کر اور حضور کی باتیں جو بعض وقت فرماتے ہیں سن کر مجھے ایمانی اور عملی بہت ترقی ہوئی ہے۔اور مجھے اتنا ہی فائدہ ہوا ہے جتنا حضور کی تندرستی کے ایام میں مجھے ہوتا تھا۔فرمایا۔شکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مخلوق کی نفع رسانی کے لئے کیسا جوش اور شوق رکھتے ہیں۔پھر شیخ تیمور نے عرض کیا کہ حضور کی بیماری سے بہت لوگوں کو یہ فائدہ پہنچا ہے کہ غفلت سے بیدار