ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 299
ہاں۔فرمایا۔جاؤ حوالہ بخدا۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد۱۵ نمبر ۳مؤرخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۷،۸) تازہ ترین واقعات بوقت شام مؤرخہ ۲۲ ؍جنوری ۱۹۱۱ء جب کہ حضور کی طبیعت اچھی تھی (نوشتہ مولوی فضل دین صاحب) میں نے عرض کیا کہ حضور پٹیالہ سے غلام مرتضیٰ کا خط آیا ہے کہ مرزا …بیگ (غیر احمدی) جو فوج میں کپتان ہیں۔ان کو ہم نے ڈاکٹر عبد الحکیم کے پاس بھیجا تھا کہ اس سے وہ دریافت کریں کہ ۱۱؍ جنوری والی پیشگوئی کیا ہوئی۔ان کو عبد الحکیم نے کہا ہے کہ اصل میں مرزائیوں نے اس بات کو چھپا رکھا ہے۔فرمایا۔پھر اس کا جو خط آیا ہے اس کو کیوں نہیں چھاپا۔عرض کیا کہ حضور کا اس پر کچھ ارشاد ہو تو شائع کر دیا جاوے۔فرمایا۔اس کو لکھنا چاہئے کہ اگر تمہاری پیشگوئی پوری ہو گئی تو تم سچے ہو۔تو خود ہی آ کر دیکھ جاؤ۔پھر فرمایا۔اچھا ہے اگر اس کی پیشگوئی ۱۱؍ جنوری کو پوری ہو چکی ہے تو بھی دیکھ جاوے کہ مرزائیوں نے ایک مردہ کو زندہ کر دیا ہے اور وہ مسیح ہیں۔اور فرمایا کہ اور نہیں تو ڈاکٹر ہرڈ صاحب جو یہاں سے ہو گئے ہیں لاہور میں آ کر انہیں سے دریافت کر لے۔پھر فرمایا۔اصل میں اس کو جنون ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور ایک طرف یہ بھی وہ کہتا ہے اصل تو یہی ہے کہ میری پیشگوئی کے مطابق مولوی نور الدین صاحب فوت ہو چکے ہیں۔اور اگر نہیں مرے تو اس کی و جہ یہ ہے کہ میں نے بھی دعا کی تھی کہ اے خدا اس مسکین کو بچالے۔مگر دوسری طرف پٹیالہ میں بابو عبد الحمید صاحب سے کہہ رکھا تھا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ اس سادہ لوح کو خدا دنیا سے اٹھا لے۔فرمایا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ بددعائیں ہی میرے لئے کرتا ہے اس نے دعائیں کیا کرنی ہیں۔میں نے کہا حضور ہم کو وہ کہتا ہے کہ مرزائیوں کی ہر بات میں افتراء ہی ہوتا ہے۔ایسا ہی یہ بھی افتراء