ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 298
پھر فرمایاکہ میں نے کبھی کسی کو حکم دیا ہے تو اپنے دلی طمع سے حکم نہیں دیا خدا کا حکم سمجھ کر دیا ہے۔نمازیں پڑھو، دعائیں مانگو، دعا بڑا ہتھیار ہے۔تقویٰ کرو بس۔پھر فرمایا۔دعائیں مانگو، نمازیں پڑھو، بہت مسئلوں میں جھگڑے نہ کرو۔جھگڑوں میں بہت نقصان ہوتا ہے بہت جھگڑا ہو تو خاموشی اختیار کرو۔اور اپنے لئے اور دشمنوں کے لئے دعا کرو۔پھر فرمایا۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اکثر پڑھا کرو۔قرآن کو مضبوط پکڑو۔قرآن بہت پڑھو اور اس پر عمل کرو۔پھر فرمایا۔رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا۔(سنن ابی داؤد باب تفریع ابواب الوتر باب فی الاستغفار ) اس کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا یہ لکھ دیا جاوے کہ یہی حضور کی وصیت ۱؎ ہے؟فرمایا۔۱؎ نوٹ:۔حضرت نے جیسا کہ ان نصائح کا طرز بیان بتاتا ہے عام طور پر یہ فرمایا۔اور محض ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے خود ہی لکھا ہے کہہ دیا کہ یہ وصیت ہے۔یہ ایسی ہی وصیت ہے جیسی ایام۔۔۔۔۔میں آپ نے فرمائی۔والّا یہ امر صفائی سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک جانے والے آدمی کو خطاب کر کے وصیت نہیں ہوتی۔حضرت صاحب کا عام معمول ہے کہ جب کوئی دوست ان سے رخصت ہوا کرتاہے کہ اوصیک بتقوی اللّٰہ کہا کرتے ہیں۔اس طرح اب بھی انہیں خطاب ہے۔پس یہ صرف عام نصیحت کے رنگ میں ہے۔وصیت کے لئے آپ نے ایک اور مرتبہ پہلے فرمایا تھا۔پس لفظ وصیت سے کوئی شخص دھوکہ نہ کھاوے۔یہ سلسلہ کلام محض ایک خاص امر سے شروع ہوا اور یہ محض حضرت کی لاہوری دوستوں کو رخصتی نصیحت ہے۔احباب وصیت کے لفظ سے گھبرائیں نہیں، گو بظاہر یہ ڈاکٹر صاحب کو خطاب اور وصیت ہے تاہم ہم سب کے لئے یہ اسوئہ حسنہ اور واجب العمل ہے ہاں اس میں ہمارے لئے ہدایت اور نور ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔آمین(ایڈیٹر)