ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 290
غرض نبی کریم کی دعائیں نہایت عجیب اور ایمان کے بڑھانے والی ہیں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ۔مشکلات کا حل دعا سے چاہو ایک معزز بھائی نے عرض کی کہ رام پور میں میری حالت خراب ہو رہی ہے۔مجھے شہر کی حالت کا تو اب فکر نہیں اب تو اپنا فکر ہو رہا ہے۔یہ سن کر حضرت کی طبیعت میں دعا کے لئے ایک جوش پیدا ہوا۔اور فوراً دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے، ساتھ ہی حاضرین نے ہاتھ اٹھائے، اس کے بعد فرمایا۔دعاؤں سے کام لو۔دعاؤں سے بڑے بڑے مشکلات حل ہو جاتے ہیں اور میں نے خود دیکھا ہے کہ جن امور کو لاینحل سمجھا ہے دعاؤں نے انہیں کھول دیا ہے۔آپ دعا کریں کہ مولا کریم اس شہر میں جو سعادت مند روحیں ہیں یا جو بچے سعادت مند پیدا ہونے والے ہیں ان کو میرے ساتھ کر دے۔بعض اوقات انسان اپنی وجاہت اپنی تقریر، اپنی تحریر پر ناز کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس ذریعہ سے کو ئی اثر پیدا کر سکتا ہے مگر یہ شرک ہوتا ہے یہ کچھ بھی چیز نہیں۔جب تک اللہ تعالیٰ کی توفیق نہ ملے کچھ نہیں ہو سکتا۔دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور وہی ہے جو کسی کلام میں تاثیر پیدا کرے۔پس آپ دعاؤں سے کام لیں۔ہم پر بھی اس شہر کے حقوق ہیں۔ہم نے وہاں بہت آرام پایا ہے اور طالب علمی کا زمانہ خدا کے فضل سے عزت اور آسائش سے گزارا ہے۔بہرحال آپ بہت دعائیں کریں۔صلہ رحمی کی تاکید ایڈیٹر الحکم نے اپنی اہلیہ کی درخواست پیش کی کہ وہ مجھ سے چاہتی ہے کہ میں اس کی ہمشیرہ کی شادی پر جاؤں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ تمہاری بیوی تمہاری غمگسار ہو، ایسی تقریب میں دنیوی اصول پر اخراجات چاہتی ہیں میں سوچ کر بتاؤں گا۔میں نے یہ واقعہ اپنے گھر میں بیان کیا اور کہا کہ میں اب اس کے متعلق حضرت سے عرض نہیں کروں گا۔ادھر یوم النکاح میں صرف ایک ہی دن باقی تھا۔اس پر اس نے خود حضرت کی خدمت میں درخواست کی