ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 291 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 291

س پر جو جواب دیا اس کا مفہوم میں اپنے الفاظ میں لکھتا ہوں کیونکہ میرے پاس یہ بیان دوسرے واسطہ سے پہنچا ہے۔فرمایا۔ہم تو رشتہ داروں سے ملنے اور سلوک کرنے کی بڑی تاکید کرتے ہیں۔اور اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں سے ایسا کرے تو ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے کیونکہ صلہ رحمی بڑی نیکی ہے اور اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ہم نے اگر اجازت میں تامل کیا تو اس کی و جہ خاص مالی حالات کا لحاظ ہے ورنہ ہم تو بہت خوشی سے تمہیں بھی اجازت دیتے ہیں اگر تم بیمار نہ ہوتیں تو آپ بھی چلی جاتیں۔آپ کے ننہال سے ایک مراسی بیمار ہو کر علاج کے لئے آیا۔آپ علاج میں تو سب کے لئے ہی توجہ فرماتے ہیں اس کی طرف خصوصیت سے متوجہ رہے اور اس کے ہر قسم کے آرام و آسائش کا خود خیال رکھتے۔اس نے آپ کی نذر پیش کی تو فرمایا۔او! تُوتو ننہال سے آیا ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی جماعت کو تاکید کی تھی کہ تم مصر فتح کرو تو اہل مصر کا لحاظ رکھنا کیونکہ وہ ہمارے ننہال ہیں۔میں بھی اپنے ننہال کا بڑا لحاظ کرتا ہوں اور وہاں سے کوئی آوے میں اس کی عزت کرتا ہوں اور ہر طرح پر اس کا خیال رکھنا چاہتا ہوں۔پس تم یہ ہماری طرف سے لے لو اور جو ضرورت تمہیں ہو مجھے بتاؤ۔موجودہ جدوجہد کا اثر مسلمانوں پر میں نے ایک روز عرض کیا کہ حضرت اس وقت مسلمانوں اور ہندوؤں میں جو جدوجہد ہو رہی ہے آپ نے بھی اس پر غور کیا ہو گا؟ آپ اس کا اثر مسلمانوں کے لیے کیا سمجھتے ہیں؟ فرمایا۔میں نے اس پر بہت غور کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں میں بھی قومیت کی روح پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ فریق ثانی کی طرف سے جو حملے ہو رہے ہیں ان کے دفاع کے لئے کوشش کریں گے اور سستی اور غفلت چھوڑ دیں گے۔میں اس کو مسلمانوں کے لئے مفید سمجھتا ہوں۔اور جو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہی ہو گا۔