ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 289
پھر آپ نے اس دعا کی تشریح شروع کی فرمایا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا یعنی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں جو ہمیں کھلاتا ہے۔فرمایا۔بات بالکل درست ہے اگر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل نہ ہو تو انسان کیونکر کھا سکتا ہے۔قسم قسم کے کھانے تیار ہوں مگر صحت اجازت نہ دے اور ایسے عوارض لاحق ہوں کہ منہ میں لقمہ بھی نہ جا سکے تو کیا ہو سکتا ہے؟ پس اللہ ہی کھلاتا ہے اور مجھے بھی وہی کھلاتا ہے، وہی پلاتا ہے۔پینے کے لئے بھی اس کی توفیق ہی کی ضرورت ہے۔بعض وقت دانت میں شدید درد ہو تو کیسا ہی لذید شربت ہو انسان نہیں پی سکتا۔یا کسی وجہ سے حلق بند ہو تو ایک قطرہ اندر نہیں جا سکتا۔پس وہی کھلاتا ہے وہی پلاتا ہے اس لئے جب انسان کھائے اورپیئے تو کیوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے؟ پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح میں بہت بڑا جوش معلوم ہوتا ہے کہ وہ اتنی ہی بات پر نہیں ٹھہرے اور دعا کا سلسلہ لمبا کر دیا اور فرمایا ھُوَ اَشْبَعَنَااسی نے ہم کو سیر کیا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہی فضل پر موقوف ہے۔بعض انسان میں نے دیکھے ہیں کہ ان کو جوع البقر کا عارضہ ہوتا ہے وہ کھاتے ہی جاتے ہیں مگر ان کا پیٹ نہیں بھرتا۔اور ایسے ہی بعض لوگ ذیابیطس کے مریض ہوتے ہیں اور وہ پانی پینے سے سیرآب نہیں ہو سکتے۔اس لئے دعا کی وَاَرْوَانَااور اس نے ہم کو سیراب کیا۔پھر اس پر بھی بس نہیں۔فرمایا وَاٰوٰنَا اور اس نے ہم کو پناہ دی۔ٹھہرنے اور رہنے کو جگہ نہ ہو تو انسان کی جو حالت ہوتی ہے وہ ظاہر ہے۔پس اس فضل پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد میں رطب اللسان ہیں اور اس پر بھی سلسلہ دعا کو بہت لمبا کیا۔وَکَفَانَا پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ غَیْرُ مَکْفِیٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنِیً عَنْہُ۔(سنن ابی داؤد کتاب الاطعمۃ باب مایقول الرجل اذا طعم) اس میں بتایا ہے کہ یہ کھانا پینا جو دیا گیا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو کہ اس کے بعد پھر محتاج اور دست نگر ہونا پڑے۔اپنے فضل سے ایسا سلسلہ جاری رکھ کہ اس میں گویا دوام ہو۔