ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 288 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 288

اس میں سے کچھ کھایا تو سہی مگر اسے بھی پھر اسی طرح ان کو چکھایا اور محسوس کرا دیا کہ اس قدر نمک نہ ہوناچاہئے۔بات بات میں سبق عبد الحی آپ کے بڑے بچہ نے (جو اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کا نشان ہے) قربانی کی اور اس بکرے کا مغز آپ کے لئے تیار کرایا۔حضرت کے پاس وہ مغز آیا۔آپ نے چکھا تو اس میں بھی نمک زیادہ تھا اور علاوہ اس کے وہ جھلی جس میں مغز ہوتا ہے اتری ہوئی نہ تھی آپ نے چکھ کر چھوڑ دیا۔عبد الحی پھر لے آیا اور اصرار سے اور پیار سے پیش کیا حضرت نے اس میں سے کھانا شروع کیا تو پوچھا کہ کیوں ہم نے اس حصہ کو (جو آگے کا تھا) لیا اور اس کو نہیں لیا (جو آگے نہ تھا)۔عبد الحی نے جواب دیا کہ قرآن کا حکم ہے اپنے آگے سے کھانا چاہئے۔آپ نے فرمایا۔حدیث میں ایسا آیا ہے قرآن میں نہیں۔یہ بات بھی آپ نے بچوں کی تربیت کے اصول کے رنگ میں بتائی ہے کہ کیونکر ہم باتوں ہی باتوں میں بچوں کو دینیات کی تعلیم اور تربیت کر سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ذکر کھانا کھاتے ہوئے نہایت جوش کے ساتھ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانا کھانے کے بعد کی دعا کا ذکر فرمایا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں آپ کے پاک ارادوں، آرزؤں کا آئینہ ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے عظیم الشان انسان تھے۔نبی کریم کی سیرت کا پتہ آپ کی دعاؤں سے خوب لگتا ہے۔آپ نے کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا جس میں اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے کی تعلیم نہ دی ہو۔چنانچہ کھانا کھانے کے بعد کیسی لطیف دعا سکھائی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو دیکھو اس پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے اور کہنا پڑتا ہے۔کرشمہ دامن دل مے کشد کہ جا اینجاست