ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 239 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 239

میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور محتاج رہے گا۔جناب الٰہی جو ارشاد اس کو دے اس کا پہنچانے والا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔اس کو سجدہ حرام و کفر و شرک ہے اس سے دعا مانگنا شرک ہے۔اور اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ جس طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم اور اپنے ملک سے شرک و بت پرستی کا نام و نشان اڑا دیااور تمام مخلوق میں بلند مکانوں پر چڑھ چڑھ کر اس کی امت اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔کسی نبی اور کسی اوتار نے ایسی خدمت توحید الٰہی کی نہیں کی۔اس لئے آپ کو اگر سید اولاد آدم اور فخر بنی آدم کہا جاوے تو بالکل حق اور بجا ہے۔آپ غور کریں ہر نماز کے وقت گویا پانچ بار ہر روز اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اَللّٰہُ اَکْبَرُکس قدر زور و شور سے مسلمان پکار پکار کر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرتے ہیں۔سُبْحَانَ اللّٰہِ۔سُبْحَانَ اللّٰہِ۔سُبْحَانَ اللّٰہِ۔اکبر کے آگے کیا لفظ ہے جس کو انسان جناب الٰہی کے لئے کہے۔یہ قرآن کریم میں نہیں لکھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات کے جزو ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نور سے ایک ٹکڑا محمد ﷺ بن گیا۔ایسا خیال شرک ہے۔قرآن کریم میں اس کو رد کیا گیا ہے جہاں فرمایا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عباد اور بندوں کو اللہ تعالیٰ کا جزو بنایا ہے۔یہ بڑا کفر ہے اور کھلا کفر ہے۔(الزخرف:۱۶)۔ہاں کل نورانی بندے اس کے نور سے ہوتے ہیں۔کیا معنے؟ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔مگر یہ لفظ قرآن کریم میں نہیں۔غالباً میں نے خط کا جواب دے دیا ہے۔(نور الدین ) ( البدر جلد۹ نمبر۴۵،۴۶ مورخہ ۲،۹؍ستمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۳) زیور پر زکوٰۃ میری بی بی اپنے زیو رپر زکوٰۃ دیتی ہے اور مرزا صاحب کی بی بی بھی زیور پر ضرور زکوٰۃدیتی ہیں۔ترمذی ،ابو دائود، نسائی، حاکم، احمد میں ایسی روایتیں ہیں جن میں زیور پہ زکوٰۃکا حکم ہے۔مگر محدثین کہتے ہیں ترمذی نے کہا ہے۔اِنَّہٗ لَمْ یَصَحُّ فِی الْبَابِ شَیْء ۱؎اور علماء کا … اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔حنفیہ مہدویہ اور بہت سلف زیور پر زکوٰۃ فرض فرماتے ہیں۔اور امام مالک ، ۱؎ لَا یَصِحُّ عَنِ النَّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی ھٰذ البابِ شي(ترمذی ابواب الطھارۃ باب المندئل بعد الوضوء)