ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 238 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 238

جواب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ الاسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کی سچی فرمانبرداری کا جو دل سے ہو، زبان سے ہو، اعضاء سے ہو۔اس مضمون کو اس کلمہ میں ادا کیا گیا ہے۔اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہمیں بدل گواہی دیتا ہوںکہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا ایسا نہیں جو ذاتی کمالات رکھتا ہے سب کے سب اپنے تمام کمالات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔پھر جو وقت ان پر گزرتا ہے۔اس وقت تک اپنے کمالات محدود ہیں۔اس وقت سے آگے سب کے سب اپنے جدید ترقیات میں اس ذات پاک کے محتاج ہیں جس کا نام اللہ ہے اور کوئی موجدات میں اس پاک ذات کے سوا عبادت کے لائق نہیں۔اوتار ہندی لفظ ہے میں اس کے حقیقی معنے نہیں جانتا۔اللہ تعالیٰ کے تمام بندے جو ہدایت کے لئے دنیا میں تشریف لائے وہ سب قابل قدر اور قابل ادب ہیں مگر وہ اپنی کسی بڑائی میں ایسے نہ تھے کہ خدا کے شریک ہو سکیں نہ کسی الٰہی صفت میں اور نہ الٰہی عبادت میں۔دنیا میں کوئی نہیں آیا جس کو ہم سجدہ کریں یا اس سے ہم دعائیں مانگیں یا اس کے نام قربانی کریں۔موت کیا ہے؟ روح کا جسم سے جدا ہونا موت ہے۔ایک جسم ہمارا تھا جب ہم بچہ تھے وہ گیا تو او رجوانی کا جسم ملا وہ فنا ہوا تو بڑھاپے کا جسم ملا وہ فنا ہو گا تو اور ذرائع ترقی کے عطا ہوں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے ماسوا سب کو موت کا سامنا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک حیّ و قیوم او ر غیر فانی ہے۔کیونکہ اس کے کمالات اصلی اور ذاتی ہیں اور خانہ زاد ہیں۔باقی کاملین کے کمالات اس کی عطا اور داد ہے۔موت اور فنا قریباًمترادف ہیں۔اگر آپ پوری غورکریں تو ہر آن میں ہر ایک چیز پر فنا ہے۔کیا ہمارے وہ اجزاء جو ماں کے پیٹ میں تھے اب ہیں ؟ ہرگز نہیں۔حضرت نبی کریم ﷺ کی نسبت اس کلمہ کے اخیر یہ جملہ کیسا دلربا ہے۔اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُـہٗ حضرت نبی کریم اللہ تعالیٰ کے جزو نہیں بلکہ آپ بندے ہیں اس کے۔لوگوں نے اپنے اپنے ہادیوں کو آخر معبود بنایا اس لئے اللہ تعالیٰ نے الاسلام میں یہ جملہ بڑھایا کہ مسلمان کبھی شرک نہ کریں۔کیونکہ ان کا رسول عبودیت سے آگے نہیں بڑھا ہمیشہ اپنے کمالات و ترقیات