ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 240
امام شافعی، امام احمد زیور پر زکوٰۃ کو فرض نہیں لکھتے۔ان کے اقوال کا مدار آثار صحابہ و تابعین ہیں۔اور انس و اسماء کا مذہب تھا کہ زیور کی زکوٰۃ یہ ہے کہ اس کو عاریت کے طور پر کبھی دے دیا۔دار قطنی نے اس مذہب کا ذکر کیا ہے۔اور بیہقی نے انس وغیرہ کا مذہب یہ بیان کیا ہے کہ اس میں ایک بار زکوٰۃ دے دیں۔ہم اس لئے کہ اس ملک کا تعامل ہے نیز کثرت سے احادیث کا رجحان زکوٰۃ کی طرف ہے بلکہ حاکم والی سند پر عام طور پر جرح نہیں ہوئی اور حاکم نے صحیح وقوی کہا ہے۔ہم زکوٰۃ دیتے ہیں۔ہاں تشدد نہیں کرتے کہ آخر اس میں گو نہ اختلاف ہے۔والسلام ۲۸؍اگست ۱۹۱۰ء نور الدین بقلم خود (البدر جلد ۹ نمبر ۴۵، ۴۶ مورخہ۲، ۹؍ ستمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۸) ہمارے امام علیہ السلام کی عید سوال۔جناب میرزا صاحب عید کے روز نماز کیونکر پڑھتے تھے۔بعد نماز گلے ملنے کی رسم اُن کے ہاں تھی یا نہیں ؟ اظہار مسرت کے لئے اور کیا طریقے استعمال فرماتے تھے۔احباب و اقارب سے اس دن کیونکر کر ملتے تھے۔سیر و تفریح میں اس روز کوئی جداگانہ خصوصیت ہوتی تھی ؟ عید کے دن کچھ خاص اعمال یا اشغال بھی کرتے تھے؟ خود آپ کا کیا معمول ہے؟ جواب۔جناب کا استفسار پڑھ کر دیر تک میں متعجب رہا اور دنیوی عجائبات کا مطالعہ کرتے کرتے قریب تھا کہ میری حالت وجد میں آ جاوے بلکہ ایک قسم کا وجد رہا۔اس وقت مجھے افاقہ ہے۔مولانا فقہائے کرام نے جس قدر قیاس اور استحسان سے مسائل اور حوادث پر باریک بینوں سے کام لیا ہے۔اس کو اگر ایک کتاب میں لکھا جاوے اور صوفیائے کرام کی تحقیقات اور مکاشفات اور حالات وجد کو ساتھ ملا دیں اور ایک پلڑے میں رکھیں۔اور ڈیڑھ سو آیت قرآن جو اصل اور سرمایہ احکام فقیہہ ہے اور ڈیڑھ سو صحیح حدیث جو کہ مدار احکام فقیہہ علاوہ قرآن کریم کے ہے کو ایک