ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 228
کلمہ ٔشریف فرمایا۔جونبی دنیا میں آیا اس نے توحید سکھلائی توحید ہی سب کا اصل ہے۔مگر پچھلوں نے بجائے توحید کے خود توحید بتلانے والے کو خدا کا شریک بنا دیا۔یہی حال رامچندر اور کرشن کے ساتھ ہوا اور یہی حال حضرت عیسیٰ ؑکا ہوا۔اس واسطے آنحضرت ﷺ نے لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ بھی لگا دیا کہ خدا ہمیشہ ایک ہی ہے محمد اس کا رسول ہے اس کو کبھی خدا نہ بنا بیٹھنا۔آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ یہ قوم مشرک رہ چکی ہے کہیں پھر شرک کی طرف نہ جھک جائے اور یہ بھی خیال تھا کہ قوم میں بڑے بڑے آدمی پیدا ہوں گے۔اَنَا الْحَقُّ کہنے والے بھی پیدا ہوں گے۔جب محمد ؐ صرف رسول ہے تو اس کی امت میں سے کوئی کیوں کر خدا بن بیٹھے گا۔آنحضرت ﷺ کا یہ منشاء تھا کہ دنیا سے شرک کو مٹا دیں۔شرک مٹانے کی کوشش ایک ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ حضرت باوجود ان کوششوں کے بھی پھر شرک مٹا تو نہیں۔فرمایا۔ڈاکٹر کا کا م ہے کہ علاج کے واسطے کوشش کرتا جائے۔باوجود علاج کے لوگ مرتے ہیں مگر پھر بھی ڈاکٹر اور اطباء ہیں کہ اپنی طرف سے برابر کوشش میں مصروف ہیں۔یہی حال روحانی اطباء کا بھی ہے۔وہ اپنی طرف سے برابر کوشش کر رہے ہیں اور بہت کچھ کامیاب بھی ہورہے ہیں۔آئندہ زندگی ایک شخص نے سوال کیا کہ عالم آخر میں جو فرق اور درجات لوگوں میں ہوں گے وہ کس بات میں ہوں گے، نفس حیات میں یا انعام الٰہی میں۔فرمایا۔حیاتی بھی انعام الٰہی سے وابستہ ہے۔اس جہان میں دیکھو کہ ایک شخص آتشک اور جذام میں گرفتار ہے دوسرا صحیح سلامت ہے۔ہردوبرابر نہیں ہو سکتے۔ہر دو کی حیات بھی یکساں نہیں۔حیاتی بھی اعضاء کے ساتھ وابستہ ہے۔جس کی آنکھ نہیں اس کا یہ حصہ حیات سے خالی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک گروہ کے متعلق فرمایا ہے کہ (النحل:۹۸) اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہ مرتے ہیں نہ جیتے ہیں۔سب یکساں نہیں ہیں۔اور یہ کہنا کہ وہ کونسا جسم ہو گا ایک بے وقوفی ہے۔خدا تعالیٰ کے معاملات میں گستاخی کرنا اچھا نہیں۔کیا میرا جو جسم ماں کے پیٹ سے نکلا تھا وہی یہ جسم نہیں؟ بالکل نہیں۔یہ جسم تو ہر