ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 229
وقت بدلتا رہتا ہے۔مِنْ حُسْنِ اِسْـلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ(کنز العمال جلد ۳ صفحہ۶۴۰)۔انسان کے اسلام کی عمدگی میں یہ بات ہے کہ بے فائدہ بات کو چھوڑ ے۔بعض احادیث میں ہے کہ انسان کا ہاتھ ۶۰ ہاتھ لمبا ہو گا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس کی کیفیت کیا ہو گی۔بہرحال یہ ہاتھ تو اتنا لمبا نہیں ہے جس بات کا علم نہیں اس کے متعلق گفتگو کرنا مناسب نہیں۔قناعت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور بہت گرمی ہے۔فرمایا۔گرما منجملہ تحائف ملتان بیان کیا جاتا ہے ہم بھی باہر سے آئے ہیں۔ضرور ہے کہ گرمی برداشت کریں۔فرمایا۔جہاں ندیاں زیادہ ہوں وہاں برسات کم ہوتی ہے اگر یہاں برسات زیادہ ہوتی تو یہ کچے مکان آباد نہ رہ سکتے۔خدا پنے بندوں کی پرورش کرتا ہے فرمایا۔حضرت شاہ غلام علی صاحب جب حضرت مظہر جانِ جاناںکے خلیفہ ہوئے تو کسی کو لنگر میں خیال نہ آیا کہ ان کے واسطے کھانا لے جائے اور وہ کھانا مانگنے نہ جا سکتے تھے۔سات وقت یا سات روز گزر گئے کہ بھوکے رہے اور بہت ضعف ہو گیا۔وقت عشاء کا تھا چلنے کے لئے تاب و توان نہ تھا کسی سے ظاہر نہ کیا کہ میری کیا حالت ہے۔جب سب سو گئے تو کوئی شخص آیا اور ایک کلاں با قر خانی لایا اور آواز دی کوئی ہے تو یہ لے لے۔اور تو سب سوتے ہی تھے شاہ صاحب نے اٹھ کر لے لی۔نصف روٹی کھائی تو سیر ہو گئے خیال آیا کہ باقی نصف رکھ چھوڑیں دوسرے وقت کام آئے گی لیکن سوچا کہ یہ امر توکل کے خلاف ہے اس واسطے باقی نصف کسی کوجگا کر دے دیا۔الہام ہوا کہ اگر تو اس نصف کو رکھ لیتا تو ساری عمر اسی طرح روٹی ملتی۔یہ ایک امتحان تھا جس میں تو کامیاب ہو گیا ہے۔صبح سویرے لوگوں کو خیال آیا کہ حضرت صاحب کو کس نے کھانا کھلایا ہے ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔شہر میں اس کا چرچا ہوا بڑے بڑے لوگ معذرت کرنے کو آئے۔فرمایا۔تمہارا قصور نہیں یہ ایک حکمت الٰہی تھی۔(ماخوذ از سفر ملتان نمبر۲۔البدر جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۱؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۳تا۶) خدا پر بھروسہ فرمایا۔میرے بہت سے بچے فوت ہوئے۔جو فوت ہوا اسی یقین کے ساتھ ہم