ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 176

جاوے۔اور اگر احادیث کو معتبر جاننا ہے تو اس کی کوئی راہ بتاویں کہ کس طرح احادیث کو صحیح وغیر صحیح مانا جاوے۔جو قاعدہ حکیم محمد علی خان صاحب تجویز فرماویںاس قاعدہ پرسنی و شیعہ کے احادیث کو رکھ کر منجملہ ان کے اس حدیث کو پر کھا جاوے۔میرے نزدیک بات بہت آسان ہے۔نمبر ۱ شیعہ کی حدیث تو سنی مانتے نہیں اور سنیوں کی حدیثیں شیعہ نہ مانیں۔چلو یہ اختلاف ہی ختم ہوا کہ یہ حدیثیں اور یہ جھگڑے ہی باطل ہیں۔نمبر ۲ پہلے تحقیق کیا جائے کہ آیا نبی کریم کا کوئی مال ورثہ تھا یا نہ تھا۔اگر قرآن کریم سے ورثہ یا مال متروک ثابت ہو جائے تو پھر لَا نَرِ ُث وَ لَا نُوْ رَ ُث والی حدیث قابل بحث ہو سکتی ہے۔اگر مال نہ ہو اور ورثہ احادیث سے ثابت کیا جاوے تو جن احادیث صحیحہ سے وہ ورثہ ثابت ہوتا ہے ان کے مقابلہ میں لَا نَرِ ُث والی حدیث کا موازنہ کیا جاوے جو وزن میں بھاری ہے وہ صحیح ہے یا رائج ہے۔نمبر۳ سورۃ حشر کے آیات (الحشر:۷)سے ثابت ہوتا ہے کہ مَا تَرَ کْنَا صدقہ ہے۔اور یہ وَ لَا نَرِ ُث کی تائید ہے۔آیت استخلاف میں مشابہت کی تفصیل اس جگہ تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمائی۔مگر خلفاء گزشتہ دو قسم کے قرآن کریم میں بیان ہوئے۔بعض بادشاہ و سلطان ہیں صاحبِ ملک ہیں جاہ وحشم رکھتے ہیں اور بعض غریب مسکین ہیں۔دائود وسلیمان علیہما السلام بادشاہ ہیں تو یحییٰ اور الیسع و لقمان یا نوح ؑ غربابھی ہیں۔پھر صاف ظاہر ہے کہ خلفاء کے دونوں رنگ ہوتے ہیں۔( البدر جلد۹ نمبر۱۳ مورخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۳) (۱) پرانی مسجد کااسباب پرانی مسجد کااسباب جس قدر نئی پر لگ سکے لگاؤ باقی بیج کر اس کے بدلے اور لے لو۔(۲)مسجد پر بضرورت دوسرا مکان پہلی مسجد پربضرورت دوسرا مکان بشرطیکہ زمین کی قیمت دوسرے پر لگائی جاوے۔جائز ہے۔منافقوں کی مسجد مسجد الٰہی نہ تھی بلکہ شرار ت تھی۔اس جگہ کو پاخانہ بنایا گیا۔(نور الدین )