ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 177

چند سوالات کے جواب (۱)جنّ اور شیطان جنّ اور شیطان کا لفظ قرآن شریف میں بہت معانی پر بولا گیا ہے۔بعض قوموں کو بھی جنّ اور شیطان کہا گیا ہے بعض جَرم ( باریک کیڑے)کے لئے بھی جنّ کا لفظ بولا گیا ہے۔مثلاً طاعون، ہیضہ وغیرہ کے جَرم جو خوردبین سے دیکھے جاتے ہیں۔بھوت اور چڑیل گو ہمارے ملک کے لفظ ہیں مگر میں ان کے معانی کو نہیں جانتا۔البتہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ بعض بیمار بیماری کے ظہور سے پیشتر بھیانک اور دہشت ناک شکلیں خواب میں دیکھتے ہیں پھر بیمار ہوتے ہیں۔گویا اُن ڈراؤنی شکلوں کا نقشہ ایسا ہوتا ہے جیسے ہندوستان کے پرانے مذہب میں بھوت چڑیل کی شکلیں دکھائی گئی ہیں۔مثال کے لئے کابوس کے مریض پر غور کرو۔(۲) سحر اور اس کے معانی جادو نام ہے سحر کا۔سحر کے اقسام بہت ہیں۔دلربا تقریر اور طب کے علم کو بھی سحر کہا گیا ہے۔خوش تقریر خطیبوں کو بھی ساحر کہا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ کو بھی مکہ والوں نے ساحر کہا ہے۔خدا ئے تعالیٰ کے اکثر پیارے بندوں کو دنیا والوں نے ساحر کہا ہے۔چنانچہ ہمارے مرزا صاحب ؑ کو بھی لوگوںنے ساحر کہا۔دقیق النظر آدمی کو بھی ساحر کہا گیا ہے۔اور ان علوم سے لوگوں کو نقصان بھی پہنچ سکتاہے۔(۳) شیطان سے بچنے کا طریق شیخوں کے بیٹے شیخ اورراجپوتوں کے بیٹے راجپوت، سیدوں کے سید ہوتے ہیں۔اس کو تو شاید آپ مانتے ہی ہوں گے۔بس آدم کا بیٹا آدم ہوا۔چونکہ میں بھی آدم کا بیٹا ہوں اس لئے میں بھی آدم ہوں مجھ کو تو اپنے شیطان کا فکر رہتا ہے۔بعض ابلیس کی شراروں کو میںنے طبی دوکانوں میں دیکھا ہے کہ لوگوں کو آتشک کا مرض ہوتا ہے جو آتش سے مشتق ہے۔سوزاک ہوتا ہے جس میں سوز اور سوزش اورسوختگی موجود ہے غضبی بخار بھی لوگوں کو چڑھتا ہے۔میں نے اپنے شیطان کو دیکھا بھی ہے۔مجھ کو تو وہ آتش کا شرارا ہی نظر آیا ہے ممکن ہے کہ آپ کا شیطان بھی کوئی آتش کا پرکالہ ہو۔آپ لاحول اور استغفار سے کام لیں اور اپنے آپ کو شیطان کا جلوہ گاہ بنانے سے بچائیں۔