ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 175
بہت تھی منجملہ ان کے میں چند نام اسی ناسخ التواریخ سے لکھتا ہوں۔ساموع۱۔ساخوب۲۔ناثان۳۔سلیمان۴۔یوحنا۵۔بار۶۔الیشع۷۔بغاح۸۔بقع۹۔ا لیسع۱۰۔الیدع۱۱۔ایفسلط۱۲ وغیرہ وغیرہ۔پھر عجب بات ہے کہ تمام اولاد میں صرف سلیمان وارث دائود ہوئے۔یہ امر تو ثابت کرتا ہے کہ انبیاء کا ورثہ دنیوی رنگ کا نہیں تھا۔اب ہم وارث سلیمان دائود جو قابل غور ہے اس پر غور کرتے ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں وَاِلٰی رکوع والے ورثہ کو دل میںنگاہ رکھ کر ابتداء سورۃ کے غور کریں تو ان تمام یا اکثر احکام میں نبی کریم ﷺ کو آپ شریک نہ پائیں گے۔علاوہ بریں سورہ حشر میں فدک وغیرہ کا ذکر موجود ہے۔وہاں ممانعت کر دی ہے کہ (الحشر:۷)کا کوئی وارث نہیں۔بلکہ اس کے اس مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ اس مال سے متمتع بھی نہیں ہو سکتے ہاں سنی نفع اٹھا سکتے ہیں۔آپ غور کریں(الحشر:۱۱)۔یہ شیعہ تو اکثر ائمہ کے اولاد کو اور ان کے بھائیوں کو بھی مثلاً زین بن علی بن حسین اور اسماعیل بن جعفر اور ایک جعفر کو اور اولاد امام حسن کو کیا یقین کرتے ہیں۔بلکہ ان کے متاخرین نے تو حد کر دی ہے کہ حسن مثنے کو لا ولد قرار دے دیا۔اس طرح تمام مدعیان حسنی سیادت کو کاذب قرار دے دیا۔اور ادھر حسینی سادات مغرب ومکہ نے کہہ دیا کہ جناب حسین علیہ السلام طالب سلطنت ہوئے اس لئے کربلا میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔اور ہمارے مورث حسن نے چونکہ خود سلطنت چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے بجائے اس کے مکہ و مغرب کی سلطنت ہم کو ہمیشہ کے لئے عطا کر دی۔ذرا اس مقابلہ پر غور کرو۔لَا نَرِ ُث وَ لَا نُوْ رَ ُث (لسان العرب حرف السین فصل النون) پر عرض ہے کہ اگر اس حدیث پر اعتبار نہ کیا جاوے تو تمام احادیث پر اعتبار نہ کیا جاوے۔تو اس ضمن میں یہ تاریخی حدیث کہ جناب بتول نے دعویٰ کیا اور عاصیوں نے نہ سنا۔آخر حدیث ہے۔اس کو اسی مرویات میں ڈالا