ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 173
یہ خلاصہ ہے اس لئے شائع کرتا ہوں کہ تا بیرون جات کے احمدی بھی ایسے سوالات پر بحث کرنے سے پرہیز کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رضا بقضا فرمایا۔لقمان حکیم جس کے ملازم تھے وہ آقا جب کوئی چیز کھانے لگتا تو وہ حضرت لقمان کو بھی اپنے ساتھ شریک کر لیتا۔ایک دفعہ چند خربوزے تھے جو آقا کو بہت خوشنما معلوم ہوئے۔اس نے لقمان کو بلایااور خود خربوزہ چیر کر لقمان کو کھانے کے لئے دیا۔لقمان نے بہت ہی شوق اور محبت سے کھایا حالانکہ وہ سخت ہی کڑوا تھا۔آقا نے یہ دیکھ کر کہ لقمان بہت شوق سے کھا رہا ہے دوسرا خربوزہ بھی چیر دیا۔مگر جب خو د چکھا تو تعجب سے پوچھا کہ لقمان ! یہ تو بڑا کڑوا ہے۔حضرت لقمان نے کہا۔حضور اتنی مدت میں آپ کے ہاتھ سے شیرینی کھاتا رہا ہوں اگر ایک دفعہ کی تلخی پر شکایت کروں تو بہت ہی بری بات ہے۔انسان پر جب کوئی مصیبت آئے توگھبرائے نہیں اور بے صبر ی کے کلمات منہ سے نہ نکالے اور یہ خیال کر ے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کیا کیا احسانات و انعامات کئے ہیں کیا ہوا اگر ہماری اصلاح کے لئے کبھی کوئی تلخی بھی بھیج دے۔( البدر جلد۹ نمبر۱۲ مورخہ ۱۳؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ۳) مکتوبات امیر المومنین عزیز من! ذر ا آپ ایک طرف (المؤمن:۵۲) اور اس قسم کی آیات کو مطالعہ فرماویں اور دوسری طرف نبی کریم ﷺکی محنتیں، دعائیں، وعظ ملاحظہ کریں اور تیسری طرف شیعہ سے دریافت کریں کہ نبی کریم ؐ سے فائدہ کی بجائے نقصان ہی نقصان ہوا ابوجہل وغیرہ تو کافر ہی تھے۔ابوبکرؓ، عمرؓ ،عثمان ؓاور کل صحابہ و ازواج بھی کافر مرتد