ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 171
۱۰۔سر کو ہمیشہ منڈوانا شرعاً ثابت نہیں۔۱۱۔میت کو ثواب و دعا ضرور پہنچتا ہے۔۱۲۔قرآن کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔۱۳۔عصر و مغرب کے درمیان خود رسول اللہ ﷺ نے کھانا کھایا ہے۔۱۴۔قرآن کو ہاتھ بلا وضو جائز ہے۔۱۵۔طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنا شرعاً ممنوع ہے۔اگر نماز پڑھتے ہوئے سورج طلوع کرے یا غروب ہو جاوے تو اگر نمازی نے ایک رکعت پڑھ لی ہو تو اس کی نماز ہو جاتی ہے۔۱۶۔بعد فراغ، دعا ہاتھ اٹھا کر مانگنا منع نہیں۔۱۷۔جو شخص تیسری رکعت میں مغرب کے وقت ملے وہ دورکعت پڑھ کر التحیات کو بیٹھے۔۱۸۔ایک کپڑے میں نماز جائز ہے۔مگر بہتر ہے کہ زینت کو ساتھ رکھے۔۱۹۔حمائل پہننے سے ریح خارج ہو تو گناہ نہیں۔۲۰۔تحیۃ الوضو ضروری نہیں۔۲۱۔ہاتھ سینہ پر اور ناف کے نیچے دونوں طرح جائز ہیں۔۲۲۔شب رات کی عید، گیارہویں ، بارہ وفات، محرم کے معاملات موجود شرع اسلام میں ثابت نہیں۔۲۳۔رسول کریم ؐ ہمیشہ سحری کھاتے تھے۔۲۴۔نماز میں روحانی، جسمانی ،دنیوی ، دینی سب دعائیں جائز ہیں۔۲۵۔بٹن لگانا ہی بہتر ہے۔۲۶۔لوگوں کا مسجد میںبیٹھ کر پھر اٹھ کر نماز پڑھنا، دائیں بائیں نماز کے بعد ہونا کوئی امر نہیں۔۲۷۔دھوتی سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔۲۸۔ہاتھ سے قرآن کریم گر جاوے تو کوئی گناہ نہیں۔۲۹۔بے جا اپنی جان پر کوئی تشدد کرنا جس کا ثبوت شرع میں نہیں رہبانیت ہے۔