ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 170

(۳)بوجہ ملازمت سفر نماز نماز آپ پوری پڑھا کریں۔( سوال یہ تھا کہ مجھے ہمیشہ ریل میں بوجہ ملازمت سفر رہتا ہے) (۴)جرابوں پر مسح جرابوں پر مسح جائز ہے۔(البدر جلد ۹ نمبر ۱۱۔مورخہ ۶؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۳) سوالات کے جوابات السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۱۔سنتیں اور نفل روزانہ شرع اسلام میں موجود ہیں۔دو سنتیں فجر کی نماز سے پہلے، چار سنتیں ظہر سے پہلے ، دو سنت دو نفل ظہر کے بعد، چار سنت عصر سے پہلے ،دوسنت مغرب کے بعد، دو سنت دو نفل عشاء کے بعد، آٹھ رکعت تہجد ، تین وتر ہر روز ثابت ہیں۔یہی میری تحقیق ہے۔اس کے سوائے تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضو … اشراق ہے۔۲۔وتر وں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔۳۔زبان سے نیت نماز کی اسلام میں ثابت نہیں ہاں حج میں آئی ہے۔۴۔جو شخص سو جاوے یا بھول جاوے وہ جب جاگے یا جب اس کو یاد آ جاوے اس وقت نماز پڑھ لے اس کے لئے وہی وقت ہے۔۵۔عشاء کے بعد سو کر اٹھنے سے تہجد کا وقت شروع ہوتا ہے۔۶۔قبل نماز مغرب بعض صحابہ نے دو رکعت پڑھی ہیں۔۷۔ممانی کے ساتھ نکاح جائز ہے۔۸۔مردوں کو بال لمبے بڑھانے کے متعلق کوئی ممانعت شرعاً نہیں۔ہاں نبی کریم ﷺ نے شانہ تک گاہے بال بڑھائے ہیں۔۹۔پیلو کی جڑھ (کا مسواک )عرصہ تک کرنا ممنوع نہیں۔