ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 160

سے بچے رہیں۔کیا اس کا لینا دینا جائز ہے؟ حضرت امیر المومنین نے فرمایا۔گورنمنٹ اپنے قواعد میں تمہارے ماتحت نہیں۔جو کاٹے کٹوائو۔پھر جو دیوے لے لو۔کیا پائوں کا دھونا ضروری ہے حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔قرآ ن کریم ارشاد فرماتا ہے۔(المائدۃ:۷)۔ارجلکم یقرہ بالنصب کیونکہ یہ معطوف علی الوجوہ وال یدی الی فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم ارجلکم اس طور کا عطف عربی میں بلا کسی خلاف کے جائز رکھا ہے اور سنت نبوی نے اس کی توضیح کر دی ہے کہ وضو کے ساتھ پائوں کا دھونا فرض ہے۔اور بعض روایات میں ارجلکممیں لام پر ضمہ بھی پڑا ہے اور مبتدا بنا کر اس کی خبر محذوف نکالی ہے۔مغسولہ مگر یہ قرا ء ت شاذ ہے۔اور جر کے ساتھ بھی اکثر قرا ء ت ہیں۔اس میں دو وجہیں ہیں۔ارجلکم کو معطوف علی الرئوس بنایا ہے اعراب میں اور حکم مختلف ہے۔رؤس ممسوحہ ہیں اور رجل مغسولہ ہیں ایسے اعراب کو اعراب الجوار کہتے ہیں۔یہ عربی کثرت سے ہے کوئی منع نہیں اور قرآن کریم میں بھی کثرت سے واقع ہے۔عدت کے اندر نکا ح کا ولیمہ ایک صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے ایک بیوہ سیدانی کے ساتھ جس کا کوئی بچہ بچی نہیں ہے عدت کے اندر ہی نکاح کر لیا ہے۔