ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 159 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 159

جاتا ہے اور فرشتہ بندے کا خادم ہو جاتا ہے۔عائشہ کی مجامعت کا کہیں ذکر نہیں صرف آپ کے گھر میں نوبرس کی تھیں کہ آئیں۔(البدر جلد۹ نمبر۸ مورخہ ۱۶ ؍دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) لڑکیوں کووراثت سوال۔جو شخص لا ولد بلا رضا مندی جدیان وصیت جائیدادمنقولہ وغیر منقولہ بنام دختر زندہ بااولاد جو اپنے گھر میں آباد ہو و دیگر دختر و داماد فوت شدہ کے پسران کے نام یعنی نواسگان کے نام کرے قرآن شریف میں خداوند کریم کا کیا حکم ہے؟ جواب از حضرت امیر المومنین۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس زمانہ میں ورثہ کے متعلق مسئلہ پوچھنا میرے جیسے انسان کو تعجب میں ڈالتا ہے کیونکہ جس ضلع میں پہلے رہتا تھا وہ ضلع بنام شاہ پور مشہور ہے۔وہاں لڑکیوں کو علی العموم خاندانی علماء تک کوئی حصہ وراثت کا نہیں دیتا۔پھر جہاں لڑکیاں وارث ہی نہیں قرا ردی جاویں وہاں لڑکیوں کاباپ زندگی میں بھی کچھ نہ دے تو ان لڑکیوں پر کس قدر ظلم ہوا۔آپ کی اگر لڑکیاں ہیں تو آپ سوچ لیں۔وارث کے حق میں شریعت اسلام وصیت کو ناجائز قرار دیتی ہے۔مگر باپ بلا وصیت ان کو دے دے تو وہ جائز ہے۔آپ اس معاملہ میں سوچ کر قدم رکھیں یہ زمین اور مال ساتھ نہ دے گا تم اکیلے معہ اپنے اعمال کے جواب دہ ہو گے۔ہمیں تو یہ لوگ فتویٰ دیتے ہیں اور خود لڑکیوں کو وراثت دینے میں قرآن کریم کے مخالف ہیں۔اللہ تعالیٰ رحم فرماوے۔آمین والسلام نور الدین مورخہ ۴ا؍اگست ۱۹۰۹ء آنہ فنڈ ایک صاحب نے دریافت کیا کہ آجکل گورنمنٹ نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ملازمین سے ایک آنہ فی روپیہ تنخواہ سے ماہ بماہ کاٹا جاوے پھر سود ساتھ ملا کر اکٹھا دیا جاوے تو کہ لوگ مالی مشکلات