ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 158 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 158

سب کو ساتھ ملائو ایک صاحب نے شکایت کی کہ وہاں کے لوگ مخالف ہیں۔حضرت نے جواب میں فرمایا۔(البقرۃ:۲۵۰) ایک مومن دس کے مقابلہ میں ہو سکتا ہے۔پس ۱۵۔۱۵۰ کے لئے کافی ہیں۔تم کوشش کرو کہ سب تمہارے ساتھ ہو جاویں۔یہ بڑی آسان عمدہ بات ہے۔فَاُ وْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ۔فَقَدْ فَازَ الْمُتَّقُوْنَ۔وَاِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ہُمْ مُحْسِنُوْنَ۔بدی کو کس طرح دو رکرنا چاہیے ایک شخص کے خط کے جواب میں حضرت نے فرمایا۔(المؤمنون:۹۷)ہٹاوے ایسی ترکیب سے کہ وہ خوبیاں رکھتی ہو ہر ایک بدی کو۔بدی کو دور کرنے کے لئے عمدہ تدابیر کرتے رہو۔مثلاً بدکار کے لئے دعا کرو جیسے انبیاء کرتے تھے۔قول موجہ اور دلائل قویہ سے ہر بدکار کو سمجھائو۔اگر مناسب مفید ہو تو اس سے اعراض کرو۔ترک سلام کرو حتّٰی کہ مفید ہو تدابیر مناسبہ کے ساتھ۔پیٹنا سزا دینا جیسے حدود سرقہ و زنا میں وارد ہے مقابلہ ہی دفاع بالحسنہ ہے۔یہ عجیب در عجیب تدابیر سوچنا اور بدی کو دنیا سے یا کسی شخص سے یا قوم سے دو رکرنا بڑے صابر و متقی …… کا کام ہے۔کم ملنے والے لوگ ایک شخص نے ایک احمدی کی کسی مالی معاملہ میں شکایت کی۔حضرت نے جواب میں فرمایا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دولت مند آدمی پھر جو ملے بھی کم ( بہت کم ملاقات کرے) اس کی میری مریدی پر مجھے تو کم اطمینان ہوتا ہے۔اکثر یہ لوگ اپنا خیال مقدم رکھ لیتے ہیں۔فرشتے ایک شخص کے خط کا جواب حضرت نے لکھا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ سکھاتا ہے اور وہ بحکم رحمن بندوں کو سکھاتے ہیں۔بندہ فرشتوں سے بڑھ