ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 157

سکھائو۔لَئِنْ یَھْدِ ی اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَّاحِدًا خَیْرُ لَّکَ مِنْ حَرِّا لنَّعَمِ (حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء۔النساء الصحابیات)۔اگر ایک جان بھی تجھ سے ہدایت پا گئی تو یہ تیرے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ایک خط کا جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۱۔دو رکعت سنت فجر کی تاکید تمام روایت سے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔بخاری کی کتاب الحج میں ایک حدیث حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے مزدلفہ میں باوجود جمع صلوٰتین کے مغرب کی سنتیں پڑھیں۔یہ سنن ہیں۔سفر میں موقع ملے توپڑھ لیں وَاِلّا نہ پڑھیں کوئی مشکل معاملہ نہیں۔۲۔مسافر مقیم کے پیچھے فرض کی اقتداء کرے تو سنن میں اس کو ایسا ہی اختیار ہے جیسے تنہائی میں اختیار ہے۔۳۔دو وقت کا کھانا ایک روزہ کا فدیہ ہے۔۴۔ضرورت اور مصلحت ہو تو دواذانیں اب بھی آ پ دے سکتے ہیں۔مگر ایسا نہ ہو کہ لوگ دھوکہ میں پڑیں۔۵۔(النساء: ۸۶) سوء ایک خطرناک گناہ ہے اس میں سپارش سے بچو۔نماز میں مزہ ایک شخص نے حضرت کو لکھا کہ نمازمیں مزہ نہیں آتا اور آنکھ بند کر کے نماز پڑھوں یا نہ۔فرمایا مزہ کوئی چیز نہیں جس کے لئے ہم مامور ہوں۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ مزہ اُڑائو۔آنکھ کھول کر نماز پڑھنا مسنون ہے۔انگریز حکام ہیں بعض انسان پر نہ اٹھنے سے ابتلا آتا ہے اور نہ اٹھنے سے ریا پیدا ہو سکتا ہے ہر مومن کو ضرور ہے کہ ہر ایک امر کا لحاظ رکھے۔یعنی انگریزوں کی تعظیم کے واسطے اٹھنا کیسا ہے؟