ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 145

بلاواسطہ خود سمجھ کر یقین کرو۔اسلام کی تجلی دیکھ لو۔پھر دو احمدیوں کے باہمی مقدمہ پر ذکر کر کے فرمایا کہ میرے یا کسی احمدی کے فیصلہ کو تو منظور نہ کیا غیروں کا فیصلہ مان کر مجھے مبارکباد دیتے ہیں۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۷؍ نومبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۹) حضرت خلیفۃ المسیح کا ارشاد جب یہاں کا تا ر پہنچ گیا تو صبح حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ نے اپنے خدام کو روانگی کا حکم نافذ فرماتے ہوئے حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو ہمارا امیر قافلہ بنایا اور ہمیں ان کی اطاعت کی تاکید کی اور ارشاد کیا کہ خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔لوگوں کے ساتھ ان کی سمجھ کے مطابق بات کرو۔اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی نگہداشت رکھو۔(الانفال:۴۶)پر عمل کرو۔ثابت قدمی اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرو اور دعائوں میں مصروف رہو اور تمہارے دل کے کسی گوشہ میں سوائے عظمت الٰہی کے اور کچھ نہ ہو۔چونکہ منصوری سے تار دیا گیا تھا کہ ہم کتابیں اور ایک زود نویس اپنے ساتھ لے آئیں اس واسطے حضرت نے اجازت فرمائی کہ شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی مختار عام صدر انجمن ہمارے ساتھ اس کا م کے واسطے روانہ ہوں۔چنانچہ قادیان سے ہم چار آدمی حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے حضرت حافظ روشن علی صاحب ، شیخ صاحب موصوف اور یہ عاجز صبح گیارہ بجے روانہ ہوئے۔روانگی سے پہلے ملاقات کے واسطے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت موصوف نے چند قدم مشایعت فرمائی اور دُعائے مسنون کے ساتھ ہمیں رخصت کیا۔(البدر جلد ۹نمبر ۴و۵ مورخہ ۲۵؍نومبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) خواجہ کمال الدین صاحب کو لیکچر دینے کا حکم حضرت خلیفۃ المسیح نے خواجہ صاحب کو حکم دیا ہے کہ