ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 144

امیر المومنین کی خواہشیں جماعت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح والمہدی اپنی جماعت کے متعلق کیا خواہشیں رکھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب معلوم کر کے جماعت کے ہر متنفس کو جو خوشی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا ہے جو وقتاً فوقتاً اپنی جماعت کے لئے بے قرار دل سے کرتے ہیں۔اس کا ان نصائح سے ہوسکتا ہے جو آپ وقتاًفوقتاً اپنی جماعت کو عموماً اور بعض افراد کو خصوصاً کرتے ہیں۔مجھے یکم نومبر کو کچھ عرصہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے کی سعادت حاصل تھی۔آپ نے مختلف باتوں کے دوران میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور حضرت مظہر جان جاناں صاحب اور کالے صاحب رحمہم اللہ تعالیٰ کے بعض واقعات بیان فرمائے اور فرمایا کہ ایسے قسم کے واقعات نے میری ایمانی ترقی میں بہت مدد کی ہے۔یہ تینوں بزرگ ایک ہی وقت میں تھے اور باوجودیکہ ہر ایک اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پاک تعلقات رکھتے تھے اور لوگوں کو ارادت تھی۔حضرت کالے صاحب تو بادشاہ کے پیر تھے۔ان کی صفائی قلب اور عالم ربّانی ہونے کا یہ زبردست ثبوت ہے کہ ان تینوں میں باہم نہایت محبت اور اخلاص تھا۔ایک دوسرے کا ادب کرتے اور ایک دوسرے پر پورا حسن ظن رکھتے تھے۔جو واقعات آپ نے بتائے ان سے ان کا حسن ظن، اخلاص اور تعلق باللہ ظاہر کرنا مقصود تھا۔اور یہ تعلیم دینی مطلوب تھی کہ انسان حسن ظن سے بہت کام لے اپنے کسی بھائی کو حقیر نہ سمجھے اور شریعت کے آگے اپنا سر جھکادے اورفیض رسان اور اثر انداز طبیعت پیدا کرے۔نفع رساں ہو۔دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ آپ جماعت میں حضرت مظہر جان جاناں صاحب، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور کالے صاحب رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے انسان دیکھنے کے خواہش مند ہیں جو اپنی علمی معلومات کے ساتھ قرآن کریم سے تعشق رکھتے ہوں ایسے سمجھتے ہوں اور پھر تزکیہ نفس کر کے دوسروں کو فیض پہنچانے والے ہوں۔جیسے حضرت مغفور نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ پیر بنو پیرپرست نہ بنو۔حضرت خلیفۃ المسیح بھی ہمیں اسی مقام پر لے جانا چاہتے ہیں۔پھر ایک موقعہ پر ایک نوجوان کو خطاب کر کے فرمایا کہ قرآن کریم کے پڑھنے اور سمجھنے اور عمل میں ترقی کرو۔بالواسطہ اسلام کو سچا مذہب قرار نہ دوبلکہ