ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 146

بعض شہروں میں تو علی الخصوص اور ویسے دوسرے بڑے بڑے شہروں میں علی العموم وہ سلسلہ لیکچروں کا جاری رکھیں۔ہمارے احمدی احباب اس معاملہ میں انہیں مدد کریں اور ان سے خط و کتابت کریں۔چند سوالات کے جوابات ایک شخص کے چند سوالات کے جواب میں حضرت امیر المومنین نے فرمایا۔بیمہ زندگی زندگی کا بیمہ کرانا ہر گز مناسب نہیں۔ا صل اس کی جؤا ہے۔تنخواہ پر سود گورنمنٹ اپنے قواعد میں ہمارے ماتحت نہیں وہ اپنے قواعد میں مجاز ہے۔جب وہ تنخواہ کا سود دے تو آپ لے لیں اور اللہ کے راہ میں دے دیں۔تماشے کی کمائی تماشا سے زر کمانامختلف رنگ رکھتا ہے اصل تماشا کے حالات پر موقوف ہے۔ملازم تاجر ملازم کو تجارت دھوکے سے نہ کرنا چاہیے۔جلسہ پر آنا ضروری ہے ایک صاحب جو جلسہ سالا نہ پر نہ آئے تھے اس کو حضرت نے لکھا۔جلسوں پر مختلف باتیں سننے میں آتی ہیں۔ممکن ہوتا ہے کوئی عمدہ بات دل پر اثر کرے اور مفیدوبابرکت ہو۔آپ اس کے بدلہ بہت استغفار ، لاحول ، درود، الحمد کے پڑھنے سے کام لیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔(البدر جلد ۹نمبر۷ مورخہ ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) متعہ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی تقریر ایک شیعہ صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح سے متعہ کے متعلق استفسار کیا تھا جس کا جواب حضرت خلیفۃ المسیح نے مفصلہ ذیل تحریر فرمایا ہے۔آج کل کسی کو خصوصیت سے مخاطب بنانا مناسب نہیں بلکہ عام خطاب میں بھی لوگ خصوصیت کا خیال پیدا کر کے شفیق ناصح کی نصیحت سے مستفید نہیں مگر کچھ آپ کی خاطر ومدارات کچھ یہ خیال کہ