ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 123
قطع یدبطور اصلاح و خیر خواہی ہے۔ڈاکہ کا جرم اس سے زیادہ ہے کہ ذرا بھی نہیں جھینپتا علانیہ بدی کرتا ہے اس لئے اس کی سزا اس سے زیادہ ہے کہ قتل و صلب تک فرما دیا ہاں اگر کسی بدی کا اثر اس کی ذات تک رہتا تو اس میں معذور سمجھ لیا جاتا۔اَلْحُدُوْدُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبْہَاتِ میں بھی یہی نکتہ ہے کہ شبہ سے پتہ لگتا ہے کہ کسی قدر یہ شخص معذور بھی ہے اس لئے حد ساقط ہو جاتی ہے۔پانچویں قسم یہ کہ بدی کو دبانے والی اور بدی کرانے والی قوت برابر ہو اس لئے دبانے والی قوت کو تیز کرنے کے لئے استغفار فرمایا اور نیک صحبت کا حکم دیا۔منکوحہ سے جماع پر غسل میں حکمت بات کو صاف کرنے کے لئے عرض کیا گیا کہ اپنی منکوحہ سے جماع پر بھی غسل ہے کیا وہ بھی سزا ہے۔فرمایا۔سزا تو ہم نے پہلے بھی نہیں کہا۔جماع میں تلذّذ ہوتا ہے اور اس سے لہو عن ذکر اللّٰہ ضرور ہوتا ہے اس کی تلافی کے لئے غسل کیا جاتا ہے۔پا خانہ، بول ، پادکی وجہ سے وضو کا حکم ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ بُوجو ہوتی ہو اس سے لطیف پٹھوں کو سخت نقصان پہنچ جاتا ہے اس نقصان کی تلافی اور صدمہ کے ازالہ کے لئے غسل کیا جاتا ہے کیونکہ پانی بے ہوش کو ہوش میں لانے، سوئے ہوئے کو جگانے، غافل کو ہشیار بنانے کے لئے مسلّمہ علاج ہے یہی وجہ ہے کہ منہ دھویا جاتا ہے حالانکہ بول کو … منہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ بُو وغیرہ سے بول کے پٹھوں کو کیا نقصان پہنچنا ہے نقصان پہنچتا ہے لطیف پٹھوں کو جن کی پانی سے اصلاح کی جاتی ہے۔ڈاکوؤں کو مار دینے میں کیا اصلاح ہے؟ دوسری گزارش یہ کی گئی ڈاکوؤں کو جان سے مار دینا یہ کیا اصلاح ہوئی؟ فرمایا۔قتل اس کی عاقبت کے لئے جہاں دنیا سے زیادہ رہنا ہے بہت مفید ہے اور لوگوں کے لئے بھی مفید کہ اس کے ضرر سے محفوظ رہے دوم ڈاکو کے احکام متفاوت ہیں ایک ڈاکو میں جن کے لئے صرف قطع ید ورجل من خلاف ہے اور ایک جن کے لئے صلیب ایک جن کے لئے قتل۔(البدر جلد۸ نمبر ۴۰ مورخہ ۲۹؍جولائی۱۹۰۹ء صفحہ ۱)