ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 122
ایک کمرہ میں لے گیا اور دکھایا کہ صدہا جوتیاں پڑی ہیں اور اسے ان سے کچھ فائدہ نہیں۔کیا لوگ گناہ کرنے پر مجبور ہیں؟ اس پر امیر المومنین کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ لوگ باوجود خدا کی ہستی پر ایمان رکھنے کے پھر بھی گناہ کرتے ہیں کیا اس سے یہ نہیں پایا جاتا کہ وہ کسی قدر مجبور ہیں بالخصوص اس امیر کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معذور تھا اور شائد اسے سزا نہ ہو کیونکہ وہ اپنی فطرت سے مجبور تھا۔فرمایا۔مختصر جواب تو یہ ہے کہ اس امیر میں طاقت اپنی قوت دُزدی کو دبانے کی تھی اگر نہ ہوتی تو وہ چوری کیوں کرتا سامنے کیوں نہ لے لیتا اور تفصیلی جواب سنو! کہ ایک حصہ قویٰ کا تو وہ ہے جس پر انسان کو کچھ قدرت نہیں اس کے متعلق اُسے کچھ باز پرس نہ ہو گی اگر کچھ دخل ہوگا تو اسی دخل کے مطابق سزا بھی ہو جاتی ہے۔مثلاً خواب میں کوئی کسی سے زناکرے احتلام ہو جائے تو حکم ہے غسل کرو۔اب یہ غسل بمنزلہ تلافی کے ہے۔دوم۔مجنون ہے۔اسے مارنے کی اجازت نہیں لیکن وہ کسی کے مال کو تلف کرے اور اس کے پاس مال ہے تو اس سے جبر نقصان کا اختیار ہے۔سوم۔معتوہ جس میںبدی پر غالب آنے کی قوت ہے مگر کمزورہے اسے تادیباً مارنا پیٹنا جائز ہے اور سرزنش کرنے کی اجازت ہے کہ بھڑکنے والی قوت دب جائے۔نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص پیش ہوا جو ہمیشہ سودے میں گھاٹا کھاتا آپ نے اسے منع نہیں فرمایا مگر ارشاد کیا کہ جب کوئی خرید و فروخت کرو تو لا خلابہکہہ لیا کرو تاکہ اقالہ بیع ہو سکے۔دیکھو کمی کی تجویز کر دی۔چہارم۔ہو تو عقلمند مگر پھر بھی کسی وجہ سے گناہ کرے مثلاً ایک بی بی نے رسول کریم ؐ کے آگے شکایت کی کہ میرا خاوند نماز صبح وقت پر نہیں پڑھتا۔اسے بلایا گیا اس نے عرض کیا حضور ہماری قوم کے تمام لوگ دھوپ چڑھے اُٹھتے ہیں اور نیند مجھ پر غالب ہے۔فرمایا جب اٹھو نماز پڑھ لیا کرو۔دیکھو کیا عمدہ حکم دیا۔جو ہادی تنگ گیریاں کرتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔غرض جتنا کسی کا اختیار و مقدرت ہے اسی کے مطابق سزا دی ہے۔چو رکا ہاتھ اس لئے کا ٹا جاتا ہے کہ اس میں شہوت کی قوت تیز ہو گئی ہے اور ہاتھ اس کا آلہ ہے پس اس کو کاٹ دیا۔تاآئندہ قادر نہ ہو بغیر اس کے دبا نہیں رہ سکتا اور یہ