ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 124
مکتوبات ِامیر سوال ۱۔جناب مرزا صاحب مرحوم یااس وقت جناب کے ہاتھ پر بیعت کرنی کیوں ضروری ہے اور اس سے کیا فائدہ ملتا ہے ؟ ہر ایک مجدد اور امام کی بیعت ضروری ہوا کرتی ہے یا کہ مرزا صاحب کو اس امر میں خصوصیت ہے ؟ اس کے لئے قرآنی دلیل کہاں ہے اگر یہ کہا جاوے کہ یہ ایک معاہدہ ہوتا ہے جو ایک شریف آدمی کسی بزرگ سے کرتا ہے کہ اوامر کی پابندی اور منکرات سے اجتناب کروں گا توکیا خدا اور اس کے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ معاہدہ کرناکافی نہیں ؟ سوال ۲۔یہ عام طور پر مشہور ہے کہ احمدیوں کو غیر احمدی کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے اس کے وجوہات اکثر میں نے سنے بھی ہیں اور رسالہ تعلیم القرآن میں دیکھے بھی ہیں۔مگر میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے غیر احمدی کے پیچھے کیوں ایک احمدی نماز نہیں پڑھ سکتا جو نہ صرف سلسلہ احمدیہ سے مخالفت نہ رکھتا ہو بلکہ حسن ظن رکھے اور خود احمدی امام کے پیچھے نما زبھی پڑھ لیتا ہو۔جواب (۱) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد مرزا صاحب کی خصوصیت نہیں ہر مامور کے احکام کی پابندی ضروری ہے (النساء:۸۱)۔جب ہمیں یقین ہوجاوے کہ فلاں راستباز ہے اور صادق ہے پھر وہ صادق کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم لوگ یہ کام کرو۔مثلاً یہی کہ میرے ہاتھ پر بیعت کرو۔جیسے قرآن کریم میں ہے۔(الفتح:۱۱)۔یہاں محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَ بَارِکْ کی بیعت کو جناب الٰہی نے اپنی بیعت فرمائی ہے۔پھر آپ غور فرماویں کہ یہودی علماء ،عباد ، زہاد اور نصرانی راہب بعینہ آپ کا ایسا سوال کہ یہود نصارٰی و مجوس کو اپنے اپنے مقام پر اللہ تعالیٰ سے اور اپنے رسولوں کی اتباع کے بعد اتباع