ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 11 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 11

توفیق شامل حال رہی اور زندگی ہوئی تو انشاء اللہ کسی دوسرے وقت بیان کروں گا۔(الحکم جلد۱۲ نمبر۴۲ مورخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ۱) القول الفصیح فی تائید المسیحؑ ۱۶؍جولائی ۱۹۰۸ء کے درس قرآن شریف کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ آج مجھے ایک نہایت ہی لطیف سوال اور اس کا نہایت ہی لطیف جواب پہنچا ہے چونکہ وہ ایک علم اور معرفت کا نکتہ ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کروں۔وھو ھٰذا حضرت ام المؤمنین نے حضرت اقدسؑ سے آپؑ کی زندگی میں یہ سوال کیا کہ ہم لوگ آپؑ کے واسطے آپ کی زندگی میں اور بعد الموت کس رنگ میں دعا کریں؟ نفس سوال ہی کس شان کا ہے؟ صاحب ذوق لوگ اس کو خوب سمجھتے ہیں مگر اس کے جواب سے جس ایمان اور صداقت کا ثبوت ملتا ہے وہ نہایت ہی پُر ذوق اور وجد انگیز ہے۔اس سوال کے جواب میں حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ میرے واسطے جب جب بھی کوئی دعا کرے تو ان الفاظ میں کرے کہ جب نبی کریم کے واسطے دعا کرے اور آپؐ پر درود بھیجے تو ہمارے واسطے بھی ان الفاظ میں اللہ جلّ شانہ کے حضور التجا کرے کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی خُلَفَآئِ مُحَمَّدٍ اب ظاہر ہے کہ اس میں حضرت اقدسؑ نے اپنا نام یا کوئی اور خصوصیت نہیں کی بلکہ صرف خلفائے محمد کے واسطے دعا کا ارشاد فرمایا۔غور کرنے والے دل اور ایک پاک دل اور خدا ترس متقی انسان کے واسطے صرف یہی ایک امر آپؑ کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کاکافی ثبوت ہے۔ظاہر ہے کہ اگر (نعوذ باللہ)آپؑ کے یہ تمام دعاوی از خود ساختہ اور افتراہی ہوتے تو آپؑ ان الفاظ میں دعا کرنے کے واسطے ہر گز ہر گز نہ فرماتے بلکہ نام وغیرہ کی خصوصیت کی ضرور قید لگاتے۔پس موجودہ صورت جواب اس امر کی ایک روشن دلیل ہے کہ حضرت اقدسؑ کو اپنے مامور من اللہ اور خلیفۃ اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین ہونے کا یقین کامل تھا اور آپؑ کو پورا وثوق