ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 12 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 12

اور بصیرت حاصل تھی کہ آپ کا نام آسمان پر خدائی دفتر میں خلیفۃ اللہ اور خلیفۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم درج ہے اور ضروری ہے کہ جب کوئی مومن صدقِ دل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاء کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرے گا تو آپؑ کو ان دعاؤں کا اثر ضرور پہنچے گا۔حضرت خلیفۃ اللہ حضرت مسیح موعود مہدی مسعودؑ کے دشمنوں اور ان لوگوں کے واسطے جو لوگ آپؑ کو نعوذباللہ مفتری اور کذّاب وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں یہ امر قابل غور ہے کہ اگر آپؑ واقع میں ویسے ہی ہوتے جیسا کہ ان لوگوں کو شیطان نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے اور دل میں آپ کو اپنی ماموریت اور منجانب اللہ ہونے کا یقین نہ ہوتا تو آپ کم از کم اپنے واسطے اس رنگ میں تو دعا کرنے کی تعلیم نہ فرماتے بلکہ اپنے واسطے کوئی خاص خصوصیت پیدا کر جاتے۔ایک غور کرنے والا دل ودماغ اگر صدق نیت اور خلوص طویّت سے حق کی پیاس اور سچی تڑپ لے کر انہی باتوں میں غور کرے کہ اس پاک باز انسان نے اپنے نفس کے واسطے کیا بنایا؟ پھر اپنے نفس کے بعد انسان کو اپنی اولاد اور اقارب کا خیال ہوتا ہے تو ان کے واسطے آپ نے کیا کیا؟ یہ دو سوال اور ان کے جواب ہی اس کے واسطے حق پا جانے کے واسطے کافی ہو سکتے ہیں بشرطیکہ پاک دل اور طالب حق ہو۔اپنے نفس کے واسطے تو آپؑ نے یہ کیا کہ تم ہمارے واسطے دعا کرو اور وہ بھی نام لے کر نہیں، کسی خصوصیت سے نہیں بلکہ یوں کہو کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی خُلَفَآء ِ مُحَمَّدٍ باقی رہی اولاد اور اقارب سو ان کو بھی آپؑ نے اللہ کے سپرد کیا ہے اور آپ کی وصایا میں کبھی نہ پاؤ گے کہ میری اولاد کی خدمت کرنا یا میرے اقارب کو نذر نیاز دینا۔بلکہ آپ کی وفات پر باوجود آپ کی اولاد اور اقارب میں سے لائق اور قابل انسانوں کے ہوتے ہوئے ایک غیر کا خلیفہ مقرر ہونا اور پھر تمام خاندان نبوت کا اس کوصدق دل اور شرح صدر سے خلیفہ مان کر اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا یہ بھی آپؑ کی صداقت کی ایک روشن دلیل ہے۔