ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 10

ثبوت اور بین دلیل۔اور آپ کی سچی دعاؤں اور دلی آرزؤوں اور تڑپ کا یہ نتیجہ ہے کہ آپ کی قائم کردہ جماعت میں تفرقہ نہیں ہوا بلکہ بیش از پیش جوش خدمت دین اور تائید حق کے واسطے ان کے دلوں میں ولولے پیدا ہوتے ہیں۔ایک قدرت کا نمونہ قوم نے پہلے دیکھا ہے اب دوسری قدرت بھی خدا دکھانے کو قادر ہے۔مگر چاہیے کہ ہم سب کمر بستہ ہوکر مل مل کر خدا کے حضور دعائیں کریں اور خدا سے خدا کے فیضان طلب کریں اور قدرت ثانی کے ظہور کے واسطے جوراہ خدا کے برگزیدہ مسیح نے الوصیت میں لکھی ہے اس پر کاربند ہوجاویں۔خدا قادر ہے اور وہ اپنے وعدے کا سچا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہوا کہ تعظیم الٰہی اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے لئے تعلیمات الٰہیہ دنیا میں قائم ہوا کرتی ہیں۔جب ایک جماعت اس اصل صحیح کے لئے پیدا ہوجاتی ہے تو نئے مصلح کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ اس کی جماعت اس کام کو کرتی ہے کہ تعظیم بھی قائم ہو جاوے اور شفقت علیٰ خلق اللہ کا عمل شروع ہو جاوے۔ہاں جب ان میں سستی پیدا ہوجاتی ہے تو اس کے لئے پھر اللہ تعالیٰ ایک مصلح پیدا کردیتا ہے۔تمام ان مصلحوں کا ایک ہی مذہب ہوتا ہے اور وہ سب ایک ہوتے ہیں۔ہمارے سیّد مولیٰ کواسی واسطے (الانعام: ۹۱)کا ارشاد ہوا۔عبد الرحمن قادیانی (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ۱۳،۱۴) ایک دردِ دل کا اظہار ۱۶؍جولائی ۱۹۰۸ء کے درس قرآن شریف میں سورۃ الشوریٰ کا پہلا رکوع تھا۔آپؓ نے ابتداء درس میں فرمایا کہ اس سورۃ شریف کا ابتدا نہایت ہی عجیب رنگ میں ہوا ہے اور اس میں بڑے بڑے باریک اسرار اور پُر معارف نکات بھرے ہوئے ہیں مگر آج میری طبیعت پر ایسا کچھ غیر معمولی صدمہ ہے کہ طبیعت میں ان معارف اور باریک علوم کے بیان کرنے کی برداشت نہیں۔خدا کا فضل اور