ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 110
وہ خلفاء راشدین سے افضل ہیں ؟ اگر افضل ہیں تو کس بات میں اور امیر المومنین اس کی نسبت کیا فرماتے ہیں۔‘‘ حضور کی دعائوں کا محتاج اکبر شاہ خان نجیب آبادی۔۱۷؍اپریل ۱۹۰۹ء السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حقیقی فضیلت کا علم جس پر قرب الٰہی اور رضائے حضرت حق کا مدار ہے۔بدوں صاف کلام الٰہی کے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے۔(البقرۃ:۲۵۴)سے معلوم ہوتا کہ رسولوں کی فضیلت کے لحاظ سے تفریق ضرور ہے مگر ہمیں جوارشاد ہے اُس میں(البقرۃ:۲۸۶) کا حکم ہے۔ہم اپنے سید الاولین و الآخرین سید ولد آدم کو افضل الرسل کہتے ہیں۔مگر ایک صحابی نے ایک یہودی کو اس لئے پیٹا تھا کہ یہودی نے کہا تھا۔وَالَّذِیْ فَضَّلَ مُوْسٰی عَلَی الْبَشَرِ۔وہ مقدمہ حضور کے درباردُربار میں آیا تو صحابی کو ملامت فرمائی۔نیز اس فضیلت کے بے وجہ اور بے جا مباحثات نے اسلام کو وہ صدمہ پہنچایا کہ شیعہ خوراج، سنی تین بڑے بڑے گروہ نظر آتے ہیں اس تفرقہ کی بلا سے ہم سبکدوش نہیں ہوئے آپ ایک اور بلا ہمارے سر پر لانا چاہتے ہیں۔میرا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب مسیح ، مہدی، امام، مجدد تھے اور سچے تھے۔ا ن کی فضیلت کا قصہ مجھے معلوم نہیں اور نہ میں نے اس پر بحمداللہ غور کیا ہے اور نہ مجھے کبھی ضرورت پڑی۔اللہ تعالیٰ نسبتوں کو جانے۔مجھے کوئی الہام اس بارے میں نہیں ہوا۔والسلام نور الدین ۲۴؍اپریل ۱۹۰۹ء